نماز سے مدد

مصیبت میں نماز سے مدد چاہنے کی چار حکایات

’’کنزالایمان مع خزائن العرفان‘‘ صَفْحَہ17 پر پارہ1 سورۃ البقرہ کی آیت 45میں اِرشاد ہوتا ہے:

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان:اور صبر اور نماز سے مدد چاہو، اور بے شک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں ۔

{۱} جب بیٹے کی وفات کی خبر ملی(حکایت )

حضرت اِبنِ عباس رضی اللہ عنہ فرزند[1]یعنی بیٹے کی وفات کی خبر سن کر نماز میں مشغول ہوگئے اور اس کو اتنا دراز[2]یعنی طویلکیا کہ جب لوگ دفن کرکے لوٹے تب آپ فارِغ ہوئے۔ لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو آ پ نے فرمایاکہ مجھے اس فرزند[3]یعنی بیٹےسے بہت محبت تھی،میں اس کی جدائی کا صدمہ برداشت نہ کرسکتا تھا ، لہٰذا نماز میں مشغول ہوکر اس صدمے سے بے خبر ہوگیا اور آپ نے یہی آیت پڑھی۔[4]تفسیر نعیمی ج ۱ص۲۹۹تا۳۰۰

{۲} بیٹے کو پولیس نے چھوڑ دیا(حکایت)

حضرت ابو الحسن سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آپ کی پڑوسن نے حاضر ہو کر عرض کی : اے ابو الحسن! رات میرے بیٹے کو سپاہی پکڑ کر لے گئے ہیں شاید وہ اسے تکلیف پہنچا ئیں ، براہِ کرم! میرے بیٹے کی سفارش فرما دیجئے یا کسی کو میرے ساتھ بھیج دیجئے۔ پڑوسن کی فریاد سن کر آپ کھڑے ہو کرخشوع و خضوع  کے ساتھ نماز میں مشغول ہوگئے۔

جب کافی دیر ہوگئی تو اس عورت نے کہا :اے ابو الحسن!جلدی کیجئے! کہیں ایسا نہ ہو کہ حاکم میرے بیٹے کو قید میں ڈال دے! آپ نماز میں مشغول رہے ،پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا:’’اے اللہ پاک کی بندی ! میں تیرا معاملہ ہی تو حل کر رہا ہوں ۔‘‘ ابھی یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ اس پڑوسن کی خادمہ آئی اور کہنے لگی : بی بی جی! گھر چلئے! آپ کا بیٹا گھر آ گیا ہے۔ یہ سن کر وہ پڑوسن بہت خوش ہوئی اور آپ کو دعائیں دیتی ہوئی وہاں سے رخصت ہوگئی ۔ [5] (عیون الحکایات ص۱۶۴ملخصاً)(عیون الحکایات(اردو) ج۱ص۲۶۶)

{۳} موسلا دھار بارِش ہوئی۔۔۔کیسے؟(حکایت)

خادمِ نبی حضرتِ سیدنا اَنس بن مالک رضی اللہ عنہ کے باغبان[6]یعنی مالی نے ایک بار حاضر ہو کر شدید قحط سالی[7]یعنی بارشیں نہ ہونے کی شکایت کی۔ آپ نے وُضو کیا اور نماز پڑھی پھرفرمایا: اے باغبان! آسمان کی طرف دیکھ!کیا تجھے کچھ نظر آرہا ہے؟ اُس نے عرض کی: حضور! مجھے تو آسمان میں کچھ بھی نظر نہیں آرہا! آپ نے دوبارہ نماز پڑھ کریہی سوال فرمایا اور باغبان نے وُہی جواب دیا۔ پھر تیسری یا چوتھی بار نماز پڑھ کروہی سُوال کیا تو باغبان نے جواب دیا: ایک پرندے کے پرکے برابر بدلی کا ٹکڑا نظر آرہا ہے۔

آپ نماز و دُعا میں برابر مشغول رہے یہاں تک کہ آسمان میں ہر طرف اَبر[8]یعنی بادَل چھا گیا اور موسلا دھار بارش ہوئی ۔ حضرتِ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے باغبان کو حکم دیا: گھوڑے پر سوار ہو کر دیکھو کہ بارش کہاں تک پہنچی ہے؟ اس نے چاروں طرف گھوڑا دوڑا کر دیکھا اور آکر کہا کہ یہ بارش ’’مسیرین‘‘ اور ’’غضبان‘‘ کے محلوں سے آگے نہیں بڑھی۔[9] (کرامات صحابہ ص۱۹۵) (طبقات ابن سعدج۷ص۱۵)

{۴} چشمہ جاری ہوگیا(حکایت)

حضرت سیدنا عقبہ بن نافِع فہری رحمۃ اللہ علیہ کا لشکر افریقہ کے جہاد وں میں ایک بار کسی ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں پانی کا دُور دُورتک نام و نشان نہیں تھا، اور اسلامی لشکر شدتِ پیاس سے بے تاب ہو گیا۔ حضرتِ سیدنا عقبہ بن نافع فہری رحمۃ اللہ علیہ نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیئے، ابھی دُعا ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ آپ کا گھوڑا اپنے سم[10]یعنی پاؤں سے زمین کریدنے لگا۔

آپ نے اُٹھ کر دیکھا تو مٹی ہٹ چکی تھی اور ایک پتھر نظر آرہا تھا! آپ نے جیسے ہی پتَّھر ہٹایا ایک دم اُس کے نیچے سے پانی کا چشمہ اُبلنے لگا اور اِس قَدَر پانی نکلا کہ سارالشکر سیراب ہوگیا، تمام جانوروں نے بھی خوب پانی پیا اور لشکر یوں نے اپنی اپنی مشکوں میں بھی بھر لیا،پھر اس چشمے کو بہتا چھوڑ کر لشکر آگے روانہ ہوگیا۔[11]الکامل فی التاریخ ج۳ص ۴۵۱

اللہ پاک کی ان سب پر رَحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ اٰمین

ہمیں نماز سے راحت پہنچاؤ!

اے ساتھیوں!جب کوئی مصیبت آجائے یا بلا نازل ہو یا کوئی نازک معاملہ در پیش ہو توفوراً نماز کا سہارا لے لینا چاہیے، ہمارے پیارے آقا ﷺ اہم معاملہ پیش آنے پر نماز میں مشغول ہوجاتے تھے کیونکہ نمازتمام اَذکارو دعاؤں کی جامع[12]یعنی پوراکرنے والیہے ، اس کی بَرَکت سے رنج و غم سے راحت ملتی ہے ،یِہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ حضرت بِلال رضی اللہ عنہ سے فرماتے: ’’اے بِلال! ہمیں نماز سے راحت پہنچاؤ‘‘[13]معجم کبیر ج۶ص۲۷۷حدیث۶۲۱۵[14]یعنی اے بلال! اذان دو تاکہ ہم نماز میں مشغول ہوں اور ہمیں راحت ملے۔ حضرت عبدُ اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب تم آسمان سے کوئی[15]گڑگڑاہٹ وغیرہ کی ڈراؤنیآواز سنو تو نماز کی طرف متوجِّہ ہوجاؤ۔[16] شرحُ الْبُخاری لابنِ بَطّال ج۳ص۲۶

’’مَبْسُوط‘‘ میں ہے: جب تاریکی[17]یعنی اندھیراچھا جائے یا شدید ہوائیں چلنے لگیں تو اُس وقت نماز پڑھنا بہتر ہے، حضرتِ عبداللّٰہ بن عبّاس رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ بصرہ میں زلزلہ آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔ [18]مرقاۃ المفاتیح ج۳ص۵۹۸

ثواب کی نیت سے شیئر کرتے جائیں۔۔
Share on Facebook
Facebook
Tweet about this on Twitter
Twitter
Share on Reddit
Reddit
Share on LinkedIn
Linkedin
Buffer this page
Buffer
Digg this
Digg
Share on Tumblr
Tumblr
Share on Yummly
Yummly
Share on VK
VK
Email this to someone
email

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں