نَجاستِ خَفیفہ

نَجاستِ خَفیفہ

جن جانوروں کا گوشت حلال ہے، (جیسے گائے، بیل، بھینس، بکری، اونٹ وغیرہا ) ان کا پیشاب ،نیز گھوڑے کا پیشاب اور جس پرند کا گوشت حرام ہے، خواہ شکاری ہو یا نہیں، (جیسے کوّا، چیل، شِکرہ، باز) اس کی بِیٹ نَجاستِ خفیفہ ہے۔
(ایضاً ص ۱۱۳)
نَجاستِ خَفیفہ کا حکم
نَجاستِ خفیفہ کا حکم یہ ہے کہ کپڑے کے جس حصّے یا بدن کے جس عُضو میں لگی ہے اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے تومُعاف ہے، مَثَلًا آستین میں نَجاستِ خَفیفہ لگی ہوئی ہے تو اگر آستین کی چوتھائی سے کم ہے یا دامن میں لگی ہے تو دامن کی چوتھائی سے کم ہے یا اسی طرح ہاتھ میں لگی ہے تو ہاتھ کی چوتھائی سے کم ہے تو مُعاف ہے یعنی اس صورت میں پڑھی گئی نماز ہوجائے گی اور البتَّہ اگر پوری چوتھائی میں لگی ہو توبغیر پاک کئے نماز نہ ہوگی۔
(بہارِ شریعت ، حصہ۲ ص۱۱۱)
جُگالی کا حُکم
ہر چَوپائے کی جُگالی کا وُہی حکم ہے جو اس کے پاخانہ کا۔
(ایضاً ص ۱۱۳ ،دُرِّمُختار،ج۱،ص۶۲۰)
حیوانات کا اپنے چارے کو معدے میں سے نکال کر منہ میں دوبارہ چبانا جُگالی کہلاتا ہے ۔ جیسا کہ اکثر گائے اور اُونٹ اپنا منہ چلاتے رہتے ہیں اور ان سے صابُن کی طرح جھاگ نکلتا ہے ،ان کی(یعنی گائے اور اونٹ کی ) جُگالی میں نکلنے والا جھاگ وغیرہ نَجاستِ غَلیظہ ہے۔
پتّے کا حکم
ہر جانور کے پِتّے کا وُہی حکم ہے جو اس کے پَیشاب کا، حرام جانوروں کا پِتّا نَجاستِ غَلیظہ اور حلال کا نَجاستِ خَفیفہ ہے۔
(دُرِّمُختار،ج۱،ص۶۲۰،بہارِ شریعت حصہ ۲ص۱۱۳)
جانوروں کی قَے
ہر جانورکی قے اُس کی بِیٹ کاحکم رکھتی ہے یعنی جس کی بِیٹ پاک ہے جیسے چِڑیا یا کبوتر اُس کی قے بھی پاک ہے اور جس کی نَجاستِ خفیفہ ہے جیسے باز یا کَوّا ، اُس کی قے بھی نَجاستِ خفیفہ ۔ اور جس کی نَجاستِ غَلیظہ ہے جیسے بط(بَطَخ) یا مُرغی ، اس کی قے بھی نَجاستِ غَلیظہ۔ اور قے سے مُراد وہ کھانا پانی وغیرہ ہے جو پَوٹے (یعنی مِعدے)سے باہَر نکلے کہ جس جانور کی بِیٹ ناپاک ہے اُس کا پَوٹا مَعدِن نَجاسات(یعنی نَجاستوں کی جگہ) ہے پوٹے سے جو چیز باہَر آئے گی خود نَجِس (ناپاک ) ہو گی یانَجِس سے مل کر آئے گی بَہرحال مِثلِ بِیٹ نَجاست رکھے گی خَفیفہ میں خفیفہ ،غَلیظہ میں غلیظہ،بَخِلاف اُس چیز کے جوابھی پَوٹے تک نہ پہنچی تھی کہ نکل آئی۔مَثَلاً مُرغی نے پانی پِیا ابھی گلے ہی میں تھا کہ اُچّھو(پانی پینے کے دوران بعض اوقات گلے میں پھندا سا لگتا ہے اور کھانسی اُٹھتی ہے اس کو ” اُچُّھولگنا ” کہتے ہیں۔) لگا اور نکل گیا یہ پانی بِیٹ کا حکم نہ رکھے گا ۔ لِاَ نَّہُ مَا اسْتَحَالَ اِلٰی نَجَاسَۃٍ وَّلَا لَا قٰی مَحَلَّھَا۔ (یعنی کیونکہ اس نے نَجاست میں حلول نہیں کیا (مکس نہ ہوا)اورنہ ہی نجاست کی جگہ سے ملا) بلکہ اسے سُؤْر یعنی جُھوٹے کا حکم دیا جائے گا کہ اُس کے منہ سے مل کر آیا ہے۔ اُس جانور کاجھوٹا نَجاستِ غلیظہ یا خفیفہ یا مشکوک یا مکروہ یا طاہِر(یعنی پاک) جیسا ہو گا ویسا ہی اُس چیز کو حکم دیا جائے گا جو مِعدہ تک پہنچنے سے پہلے باہَر آئی جومُرغی چھوٹی پھرے اُس کا جُھوٹا مکروہ ہے یہ پانی بھی مکروہ ہو گا اورپَوٹے(معدے) میں پہنچ کر آتاتو نَجاستِ غلیظہ ہوتا۔              (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۴ ص۳۹۰ ۔۳۹۱ )
دُودھ یا پانی میں نَجاست پڑ جائے تو۔۔۔۔۔۔؟
نَجاستِ غلیظہ اور خفیفہ کے جو الگ الگ حکم بتائے گئے ہیں یہ احکام اسی وقت ہیں جبکہ بدن یا کپڑے میں لگے۔ اگر کسی پتلی چیز مَثَلاً دودھ یا پانی میں نَجاست پڑجائے چاہے غلیظہ ہو یا خفیفہ دونوں صورَتوں میں وہ دودھ یا پانی جس میں نَجاست پڑی ہے ناپاک ہوجائے گا اگرچِہ ایک ہی قطرہ نَجاست پڑی ہو ۔نَجاست خفیفہ اگرنَجاستِ غلیظہ میں مل جائے تو وہ تمام نَجاستِ غلیظہ ہوجائے گی۔ (بہارِ شریعت حصہ ۲ص ۱۱۲،۱۱۳)

اپنا تبصرہ بھیجیں