مُردہ دفن کرنا کوّے نے سکھایا

مُردہ دفن کرنا کوّے نے سکھایا

سب سے پہلا قاتل و مقتول

جب قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تو چونکہ اس سے پہلے کوئی آدمی مرا ہی نہیں تھا اس لئے قابیل حیران تھا کہ بھائی کی لاش کو کیا کروں۔ چنانچہ کئی دنوں تک وہ لاش کو اپنی پیٹھ پر لادے پھرا۔ پھر اس نے دیکھا کہ دو کوے آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔ پھر زندہ کوے نے اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کرید کر ایک گڑھا کھودا اور اس میں مرے ہوئے کوے کو ڈال کر مٹی سے دبا دیا۔ یہ منظر دیکھ کر قابیل کو معلوم ہوا کہ مردے کی لاش کو زمین میں دفن کرنا چاہے۔ چنانچہ اُس نے قبر کھود کر اس میں بھائی کی لاش کو دفن کردیا۔
(مدارک التنزیل،ج۱،ص۴۸۶،پ۶،المائدۃ ۳۱)
قرآن مجید نے اس واقعہ کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ:۔
 

فَبَعَثَ اللہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الۡاَرْضِ لِیُرِیَہٗ کَیۡفَ یُوَارِیۡ سَوْاَۃَ اَخِیۡہِ ؕ قَالَ یٰوَیۡلَتٰۤی اَعَجَزْتُ اَنْ اَکُوۡنَ مِثْلَ ہٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْاَۃَ اَخِیۡ ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیۡنَ ﴿ۚۛۙ31﴾ (پ6،المائدۃ:31)

ترجمہ کنزالایمان:۔ تو اللہ نے ایک کوا بھیجا زمین کریدتا کہ اسے دکھائے کیونکر اپنے بھائی کی لاش چھپائے بولا ہائے خرابی میں اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ میں اپنے بھائی کی لاش چھپاتا تو پچتا تارہ گیا۔
درس ہدایت:۔(۱)اس واقعہ سے سبق ملتا ہے کہ آدمی علم سیکھنے میں چھوٹے سے چھوٹے استاد کا یہاں تک کہ کوے کا بھی محتاج ہے۔
(۲)اسی سے معلوم ہوا کہ انسان پر اُس کی دنیاوی زندگی کی راہ میں جب کوئی مشکل درپیش ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایسا رحیم و کریم ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے یہاں تک کہ چرندوں اور پرندوں کے ذریعے مشکلات حل کرنے کی راہ دکھا دیتا ہے۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)

اپنا تبصرہ بھیجیں