مہمان نوازی کی سُنتیں اور آداب

Mehman Nawazi

مہمان نوازی کرناسنتِ مبارکہ ہے ،احادیث مبارکہ میں اس کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں بلکہ یہاں تک فرمایاکہ مہمان باعث ِخیروبرکت ہے ۔ایک دفعہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے یہاں مہمان حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے قرض لے کر اس کی مہمان نوازی فرمائی۔ چنانچہ تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے غلام ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا۔ فلاں یہودی سے کہو کہ مجھے آٹا قرض دے ۔ میں رجب شریف کے مہینے میں ادا کردوں گا (کیونکہ ایک مہمان میرے پاس آیا ہوا ہے) یہودی نے کہا، جب تک کچھ گروی نہیں رکھو گے، نہ دوں گا۔ حضرت سیدنا ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں واپس آیا اور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں اس کا جواب عرض کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، ” واللہ ! میں آسمان میں بھی امین ہوں اور زمین میں بھی امین ہوں۔ اگروہ دے دیتا تو میں ادا کر دیتا۔”( اب میری وہ زرہ لے جا اور گروی رکھ آ۔ میں لے گیا اور زرہ گروی رکھ کر لایا) (المعجم الکبیر، الحدیث ۹۸۹، ج۱، ص۳۳۱)

مہمان باعث خیرو برکت ہے :

حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ” جس گھر میں مہمان ہو اس گھر میں خیرو برکت اسی طرح دوڑتی ہے جیسے اونٹ کی کوہان سے چھڑی(تیزی سے گرتی ہے )، بلکہ اس سے بھی تیز۔ ”
(سنن ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ، باب الضیافۃ، الحدیث ۳۳۵۶، ج۴، ص۵۱)

پیارے اسلامی بھائیو !چھڑی اونٹ کے کوہان پر رکھ دیں تو فوراً لڑھک کر نیچے کی طرف آجاتی ہے، مہمان کی وجہ سے خیرو برکت اس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نازل ہوتی ہے ۔

مہمان میزبان کے گناہ معاف ہونے کا سبب ہوتا ہے :

سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے، ” جب کوئی مہمان کسی کے یہاں آتا ہے تو اپنا رزق لے کر آتا ہے اور جب اس کے یہاں سے جاتا ہے تو صاحب خانہ کے گناہ بخشے جانے کا سبب ہوتا ہے ۔”
(کشف الخفا، حرف الضاد المعجمۃ، الحدیث ۱۶۴۱، ج۲، ص۳۳)

دس ۱۰ فرشتے سال بھر تک گھر میں رحمت لٹاتے ہیں:

حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بھائی حضرت براء بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا، ” اے براء! آدمی جب اپنے بھائی کی، اللہ عزوجل کے لئے مہمان نوازی کرتا ہے اور اس کی کوئی جزاء اور شکریہ نہیں چاہتا تو اللہ عزوجل کی اس کے گھر میں دس۱۰ فرشتوں کو بھیج دیتا ہے جو پورے ایک سال تک اللہ عزوجل کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر پڑھتے اور اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہيں۔اورجب سال پورا ہوجاتا ہے تو ان فرشتوں کی پورے سال کی عبادت کے برابر اس کے نامہ اعمال میں عبادت لکھ دی جاتی ہے اور اللہ عزوجل کے ذمہ کرم پر ہے کہ اس کو جنت کی لذیذ غذائیں ”جَنَّۃُ الْخُلْدِ” اور نہ فنا ہونے والی بادشاہی میں کھلائے ۔ ”
(کنزالعمال، کتاب الضیافۃ، قسم الافعال،الحدیث۲۵۹۷۲، ج۹، ص۱۱۹)

سبحان اللہ، سبحان اللہ! کسی کے گھر مہمان تو کیا آتا ہے گویا اللہ عزوجل کی رحمت کی چھما چھم برسات شروع ہو جاتی ہے اس قدر اجر و ثواب اللہ! اللہ!

مہمان کو دروازہ تک رخصت کرنا سنت ہے :

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے ، تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” سنت یہ ہے کہ آدمی مہمان کو دروازے تک رخصت کرنے جائے۔ ” (سنن ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ ، باب الضیافۃ، الحدیث۳۳۵۸، ج۴، ص۵۲)

اے ہمارے پیارے اللہ ! عزوجل ہمیں مہمانوں کی خوش دلی کے ساتھ مہمان نوازی کی توفیق عطا فرما اوربار بار ہمیں مدینے کی مہکی مہکی فضاؤں میں مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا مہمان بننے کی سعادت نصیب فرما۔

(اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم )

اپنا تبصرہ بھیجیں