قرض دینے کے فضائل

قر ض دینے کے فضائل

حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا،” ہر قر ض صدقہ ہے ۔”
(شعب الايمان ، باب فی الزکاۃ، فصل فی القرض ، الحديث ۳۵۶۳، ج ۳ ،ص۲۸۴)
سروردوعالم ،شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے :”معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پرلکھا ہوا دیکھا کہ صدقے کا ہر درہم ،دس درہم کے برابر ہے اور قرض کاہردرہم اٹھارہ درہم کے برابر ہے ۔میں نے پوچھا جبرئیل!قرض ،صدقے سے کس وجہ سے افضل ہے؟عرض کی: سائل سوال کرتا ہے جب کہ اس کے پاس (مال)ہوتا ہے اور قرض طلب کرنے والا اپنی ضرورت کے لئے قرض طلب کرتا ہے ۔ (حليۃالاوليا ء ،الحديث ۱۲۵۴۹،ج۸،ص۳۷۴)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشادفرمایا ،”جو شخص اپنے کسی بھائی کو دوبار قرض دے گا،اللہ عزوجل اس کوایک مرتبہ صدقہ کرنے کا ثواب دے گا ۔”
(سنن ابن ماجہ ، کتاب الصدقات ،باب القرض ، الحديث ۲۴۳۰، ج۳، ص۱۵۳)

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تقویٰ :

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جنازہ پڑھنے تشریف لے گئے دھوپ کی بڑی شدت تھی اور وہاں کوئی سایہ بھی نہ تھا ساتھ ہی ایک شخص کامکان تھا ۔ اس مکان کی دیوار کا سایہ دیکھ کر لوگو ں نے امام صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ حضور! آپ اس سائے میں کھڑے ہوجائیے ۔ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، کہ اس مکان کا مالک میرا مقروض ہے اور اگر میں نے اس کی دیوار سے کچھ نفع حاصل کیا تو میں ڈرتا ہوں کہ عند اللہ (اللہ عزوجل کے نزدیک) کہیں سود لینے والوں میں ميراشمار نہ ہوجائے، کیونکہ سر ور عالم صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ جس قرض سے کچھ نفع لیاجائے وہ سود ہے ۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دھوپ میں ہی کھڑے رہے ۔
(تذکرۃ الاولياء ،ص۱۸۸،و کنزالعمال ، کتاب الدين ،قسم الاقوال، الحديث ۱۵۵۱۲،ج۶،ص۹۹)
اللہ اکبر !ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتقویٰ کیا ہی خوب تھا۔ بزرگان دین (رحمہم اللہ) کے دلوں میں اللہ عزوجل کا خو ف کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے ۔ اسی لئے یہ حضراتِ مقدسہ قد م قدم پر اللہ عزوجل سے ڈرتے ہیں ۔اللہ تعالی کی ان پررحمت ہواورانکے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
قیامت کے غم سے بچنے کے لئے:
حضورتاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ،جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن غم اور گھٹن سے بچائے تو اسے چاہيے کہ تنگدست قرضدار کو مہلت دے یا قر ض کا بو جھ اس کے اوپر سے اتاردے۔
(یعنی معاف کردے) (صحيح مسلم ،کتاب المساقاۃ ،باب فضل انظارالمعسر،الحديث۱۵۶۳،ص۸۴۵)
قرض بہت ہی بڑا بوجھ ہے :
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں نماز پڑھانے کے لئے جنازہ لایا گیا ۔ تو حضور سید دوعالم صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے پوچھا ،اس مرنے والے پرکوئی قر ض تو نہیں ہے ؟ عرض کیا گیا ،ہاں اس پر قرض ہے ۔ حضور صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے پوچھا ، اس نے کچھ مال بھی چھوڑا ہے کہ جس سے یہ قرض ادا کیاجاسکے ، عرض کیا گیا ، نہیں ، تو حضور سید دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ،تم لوگ اس کی نماز جنازہ پڑھ لو ، ( میں نہیں پڑھوں گا)۔ حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دیکھ کر عرض کیا ۔۔۔۔۔۔،اے اللہ عزوجل کے رسول ! صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں اس کے قرض کو ادا کرنے کی ذمہ داری لیتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آگے بڑھے اور نماز جنازہ پڑھائی او ر فرمایا ،” اے علی ! رضی اللہ تعالی عنہ اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیردے ۔ او رتیری جاں بخشی ہو جیسے کہ تو نے اپنے اس مسلمان بھائی کے قر ض کی ذمہ داری لے کر اس کی جان چھڑائی ۔ کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی طر ف سے اس کا قر ضہ اداکرے مگر یہ کہ اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو رہا ئی بخشے گا۔
(السنن الکبریٰ للبيھقی، کتاب الضمان،باب وجوب الحق بالضمان ،الحديث ۱۱۳۹۸،ج۶،ص۱۲۱)
حضورتا جدار مدینہ صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم کافرمان عالیشان ہے ، وہ شخص جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں جان دی ہے (یعنی شہید ہوا ہے)اس کا ہر گناہ معا ف ہوجائے گا سوائے قرض کے ۔ (صحيح مسلم ، کتاب الامارۃ،باب من قتل فی سبيل اللہ، الحديث۶ ۱۸۸،ص۱۰۴۶)
سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ۔”جو لوگو ں کا مال بطورقرض لے او ر وہ نیت اس کے ادا کرنے کی رکھتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی طرف سے ادا کردے گا ۔اور جس شخص نے مال بطور قرض لیا او رنیت ادا کرنے کی نہیں رکھتا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس کی وجہ سے تباہ کردے گا۔”
(صحيح البخاری ،کتاب فی الاستقراض…….الخ ،باب من اخذ اموال الناس….. الخ ،الحديث ۲۳۸۷،ج۲،ص۱۰۵)
دیکھا آپ نے جس شخص نے اپنی جان تک اللہ عزوجل کی راہ میں قربان کرد ی اس پر بھی اگر کسی کا قر ضہ ہے اور وہ ادا کرکے نہیں آیاہے تو وہ معاف نہ ہوگا کیونکہ یہ بندوں کے حقوق سے تعلق رکھتا ہے ۔ جب تک قرض خواہ معاف نہ کرے اس وقت تک اللہ تعالیٰ بھی معاف نہيں کریگا ۔
اے ہمارے پیارے اللہ ! عزوجل ہمیں فراخ دلی کے ساتھ بہ نیت ثواب حاجتمند وں کو قرض دینے اورقرضدار کے ساتھ نرمی کر نے اور اپنے اوپر آتا ہو ا قرض دیانتداری سے ادا کرنے کی تو فیق عطا فرما۔
اٰمین بجا ہ النبی الامین صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم

اپنا تبصرہ بھیجیں