Jannat mein Mardon ko hooren milein gi to aurton ko kya miley ga

جنت میں مَردوں کو حوریں ملیں گی تو عورتوں کو کیا ملے گا ؟

عورتوں کو جنت میں ان کے وہ شوہر ملیں گے جن کے نکاح میں وہ تھیں بشرطیکہ شوہر بھی جنتی ہوں ۔ اگر کسی عورت کا شوہر جنت میں نہ جا سکا تو وہ کسی اور جنتی مَرد کے نکاح میں دے دی جائے گی ۔ اِسی طرح ”جو عورتیں کنواری فوت ہوئیں وہ بھی جنت میں کسی مرد کی زوجیت میں چلی جائیں گی ۔ اس کے عِلاوہ جنت کی نعمتیں مثلاً محلات ، لباس ، غِذائیں اور خوشبویات وغیرہ مَرد و عورت میں مشترک ہیں ، البتہ دیدارِ الٰہی میں اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ دونوں کو ہو گا ۔ “
(فتاویٰ اہلسنَّت ، سلسلہ نمبر ٧ ، ص۲۴مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی )

یکے بعد دِیگرے ایک سے زیادہ مَردوں کے نِکاح میں

اگر کوئی عورت یکے بعد دِیگرے ایک سے زیادہ مَردوں کے نِکاح میں آئی تو اس میں دو قول ہیں :ایک قول کے مطابق جس کے نکاح میں سب سے آخر میں تھی جنت میں اسی کے ساتھ ہو گی جیسا کہ حضرتِ سیدنا ابو درداء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے رِوایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کا فرمان عظیم ہے : عورت جنت میں اپنے اس شوہر کے نکاح میں دی جائے گی جو دنیا میں اس کا سب سے آخری شوہر تھا ۔
(مسندالشامیین ، ۲ / ۳۵۹ ، حدیث : ۱۴۹۶ مؤسسة الرسالة بیروت )

دوسرا قول یہ ہے کہ جس کا اخلاق زیادہ اچھا ہو گا اسے ملے گی جیسا کہ ام المؤمنین حضرت سیدتنا ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! بعض عورتیں دنیا میں دو ، تین یا چار شوہروں سے ( یکے بعد دِیگرے ) شادی کرتی ہیں ، پھر مرنے کے بعد وہ جنت میں اکٹھے ہوں تو وہ عورت کس شوہر کے لیے ہو گی؟ اِرشاد فرمایا: اسے اختیار دیا جائے گا اور جس خاوند کا اخلاق دنیا میں سب سے اچھا ہو گا وہ اسے اختیار کرے گی ، وہ کہے گی: اے میرے رب عز وجل ! میرے اس خاوند کا اخلاق سب سے اچھا تھا لہٰذا اس کے ساتھ میرا نکاح فرما دے ۔
(معجمِ کبیر ، ومن نساء أھل البصرة…الخ ، ۲۳ / ۳۶۸ ، حدیث : ۸۷۰ دار احیاء التراث العربی بیروت )

ان دونوں احادیث و اقوال میں کوئی تعارض ( یعنی ٹکراؤ )نہیں جیسا کہ حضرت سیدنا امام احمد بن حجر مکی شافعی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں: جس عورت نے یکے بعد دیگرے کئی نکاح کیے ہوں اور ہر شوہر نے اس کو طلاق دے دی ہو مگر آخری خاوَند نے اسے طلاق نہ دی ہو اور وہ اس کے نکاح میں فوت ہوئی تو اس صورت میں وہ جنت میں آخری خاوَند کے نکاح میں ہو گی جیسا کہ حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے ۔
(فتاویٰ حدیثیه ، ص۷۰ ماخوذاً دار احیاء التراث العربی بیروت )

طلاق کے بعد کسی کے نکاح میں نہ تھی

دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے متعدد نکاح کیے اور ہر شوہر نے اس کو طلاق دے دی ہو اور جب وہ فوت ہوئی تو کسی کے نکاح میں نہ تھی تو صرف اسی حالت میں اسے اختیار دیا جائے گا اور جس خاوَند کا اخلاق دنیا میں سب سے اچھا ہو گا وہ اسے اختیار کرے گی جیسا کہ حضرت سیدتنا ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کی حدیث میں مذکور ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں