اعتکاف کی اقسام اور چند مسائل

Itikaf

عبادت کی نیت سے اﷲتعالیٰ کے لئے مسجد میں ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے اعتکاف کی تین قسمیں ہیں اول اعتکاف واجب’ دوسرے اعتکاف سنت’ تیسرے اعتکاف مستحب۔ (1)الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الصوم ،باب الاعتکاف، ج۳،ص۴۹۲۔۴۹۵

اعتکاف واجب

جیسے کسی نے یہ منت مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے تومیں ایک دن یا دو دن کا اعتکاف کروں گا اور اس کا کام ہو گیا تو یہ اعتکاف واجب ہے اور اس کا پورا کرنا ضروری ہے یاد رکھو کہ اعتکاف واجب کے لئے روزہ شرط ہے بغیر روزہ کے اعتکاف واجب صحیح نہیں۔ (2)الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الصوم ،باب الاعتکاف، ج۳،ص۴۹۵۔۴۹۶

اعتکاف سنت موکدہ

رمضان کے آخری دس دنوں میں کیا جائے گا یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبنے سے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہو جائے اور تیسویں رمضان کو سورج ڈوبنے کے بعد انتیسویں رمضان کو چاند ہونے کے بعد مسجد سے نکلے یاد رکھو کہ اعتکاف سنت موکدہ کفایہ ہے یعنی اگر محلّہ کے سب لوگ چھوڑدیں تو سب آخرت کے مواخذہ میں گرفتار ہوں گے اور کسی ایک نے بھی اعتکاف کر لیا تو سب آخرت کے مواخذہ سے بری ہو جائیں گے اس اعتکاف میں بھی روزہ شرط ہے مگر وہی رمضان کے روزے کافی ہیں۔(3)الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الصوم ،باب الاعتکاف، ج۳،ص۴۹۵۔۴۹۶

اعتکاف مستحب

اعتکاف مستحب یہ ہے کہ جب کبھی بھی دن یا رات میں مسجد کے اندر داخل ہو تو اعتکاف کی نیت کرے جتنی دیر تک مسجد میں رہے گا اعتکاف کا ثواب پائے گا نیت میں صرف اتنا دل میں خیال کر لینا اور منہ سے کہہ لینا کافی ہے کہ میں نے خدا کے لئے اعتکاف مستحب کی نیت کی۔

اعتکاف کے چند مسائل

مرد کے لئے ضروری ہے کہ مسجد میں اعتکاف کرے اور عورت اپنے گھر میں اس جگہ اعتکاف کرے گی جو جگہ اس نے نماز پڑھنے کے لئے مقرر کی ہو ۔ (4)الد رالمختار،کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳،ص۴۹۳۔۴۹۴ اعتکاف کرنے والے کے لئے بلا عذر مسجد سے نکلنا حرام ہے اگر نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا چاہے قصداً نکلا ہو یا بھول کر اسی طرح عورت نے جس مکان میں اعتکاف کیا ہے اس کو اس گھر سے باہر نکلنا حرام ہے اگر عورت اس مکان سے باہر نکل گئی تو خواہ وہ قصداً نکلی ہو یا بھول کر اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔(5)الد رالمختار،کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳،ص۵۰۰۔۵۰۳

اعتکاف کرنے والا صرف دو عذروں کی وجہ سے مسجد سے باہر نکل سکتا ہے ایک عذر طبعی جیسے پیشاب پاخانہ اور غسل فرض و وضو کے لئے دوسرے عذر شرعی جیسے نماز جمعہ کے لئے جانا ان عذروں کے سوا کسی اور وجہ سے اگر چہ ایک ہی منٹ کے لئے ہو مسجد سے اگر نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا اگرچہ بھول کر ہی نکلے۔ (6)الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الصیام، باب الاعتکاف،ج۳،ص۵۰۱،۵۰۳

اعتکاف کرنے والا دن رات مسجد ہی میں رہے گا وہیں کھائے پئے سوئے مگر یہ احتیاط رکھے کہ کھانے پینے سے مسجد گندی نہ ہونے پائے معتکف کے سوا کسی اور کو مسجد میں کھانے پینے اور سونے کی اجازت نہیں ہے اس لئے اگر کوئی آدمی مسجد میں کھانا پینا اور سونا چاہے تو اس کو چاہے کہ اعتکاف مستحب کی نیت کر کے مسجد میں داخل ہو اور نماز پڑھے یا ذکر الہٰی کرے پھر اس کے لئے کھانے پینے اور سونے کی بھی اجازت ہے۔(7)الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الصیام، باب الاعتکاف،ج۳،ص۵۰۶

اعتکاف کرنے والا بالکل ہی چپ نہ رہے نہ بہت زیادہ لوگوں سے بات چیت کرے بلکہ اس کو چاہے کہ نفل نمازیں پڑھے’ تلاوت کرے’ علم دین کا درس دے’ اولیاء و صالحین کے حالات سنے اور دوسروں کو سنائے’ کثرت سے درود شریف پڑھے اور ذکر الہٰی کرے اور اکثر باوضو رہے اور دنیا داری کے خیالات سے دل کو پاک صاف رکھے اور بکثرت رو رو کر اور گڑ گڑا کر خدا سے دعائیں مانگے۔

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں