گناہ کے کام پرراہنمائی کرنا

گناہ کے کام پرراہنمائی کرنا

گناہ کے کام پر کسی کی راہنمائی یا اعانت کرنا ممنوع ہے مثلاً کسی کو بتانا کہ فلاں کے گھر میں بہت مال ہے اگر وہ چوری کرلیا جائے تو کیا بات ہے؟یا فلاں سینما میں بڑی زبردست فلم دکھائی جارہی ہے چلو دیکھ کر آتے ہیں تمہارا ٹکٹ بھی میں بھروں گا۔۔۔۔۔۔
قرآن مجید فرقان ِ حمید میں رب تعالیٰ فرماتاہے :

وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۪

ترجمۂ کنزالایمان : اورگناہ اورزیادتی پرباہم مدد نہ دو۔
(پ ۶،المآئدۃ:۲)

اپنے ماتحت لوگوں کو گناہ کی اجازت دینا بھی زبان کی آفتوں میں سے ہے ۔ مثلاً کسی مرد کا اپنی بیوی یابیٹی یا بیٹے یا بہن وغیرہا کو گناہوں والی جگہ پر جانے کی اجازت دینایاکسی گناہ کے کام مثلاً وی سی آر یا کیبل وغیرہ پر فلم دیکھنے کی اجازت دینا ،۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم

اپنا تبصرہ بھیجیں