کسی پر اپنا کیے کا احسان جتانا

کسی پر اپنا کیے کا احسان جتانا

ہمارے معاشرے میں اول تو کوئی کسی کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتا اور اگر مدد کر بھی دے تو عموماًکسی نہ کسی موقع پر احسان جتا دیتا ہے مثلاًآج میرے سامنے بولتے ہو ، میرا احسان مانو کہ میں نے ہی تمہیں یہ ہنرسکھایا ہے ، ۔۔۔۔۔۔آج مجھے مسائل سمجھاتے ہو، میرا شکریہ ادا کرو کہ تمہیں وضو کرنا بھی میں نے سکھایا ہے ،وغیرہ ۔۔۔۔۔۔اور یوں اپنا ثواب ضائع کر بیٹھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰی

ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والو!اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذاء دے کر۔
(پ۳،البقرۃ:۲۶۴)

لہذا ! انسان کو چاہے کہ کسی کو صدقہ دینے یا اس کی مدد کرنے کے بعد ہرگز احسان نہ جتائے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

اپنا تبصرہ بھیجیں