Christmas (کرسمس) ke mauqa par mein mubarak bad dena

کرسمس کے موقع پر دوستی یاری میں مبارک باد دینا کیسا ہے

کرسمس کی مبارک باد دینا یا کرسمس منانا، کرسمس کی بنیاد پر کیک کاٹنا یہ ناجائز و حرام و گناہ ہے اور بعض صورتوں میں کفر ہے۔ کرسمس کی تاریخی حیثیت اور حکم شرعی بیان کرتے ہوئے علماء کرام فرماتے ہیں:

کرسمس ڈے کی کوئی تاریخی حیثیت

“عیسائیوں کے یہاں کرسمس ڈے کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں یہ چودویں صدی عیسوی کا ایک نیا تہوار ہے۔ لیکن دنیا بھر کے عیسائیوں نے اس اختراعی(خود ساختہ) تہوار کو اتنی مضبوطی سے تھاما کہ یہ صدیوں سے عیسائیت کی پہچان وشعار بن گیا ہے۔

ہر چرچ اور عیسائی تنظیم گاہیں اس تاریخ میں مزین کی جاتی ہیں اور دنیا کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ گویا یہ مسیحیوں کا عظم الشان تہوار ہے جس میں اربوں ڈالر کی شراب نہ صرف پی جاتی ہے بلکہ لنڈھائی جاتی ہے۔

پھر اربوں ڈالر کی آتشبازیوں اور آتشی مادوں سے یورپ و امریکہ (اسی طرح غالباََپوری دنیا میں) کے درودیوار سے آسمانی فضا تھرا اٹھتی ہے۔ ہفتہ عشرہ تک گندھک کی بدبو سے ملک کا ملک مہکتا رہتا ہے۔ بہر حال کرسمس ڈے ان کا مذہبی تہوار ہو یا نہ ہو مگر آج قوی تہوار کی حیثیت اختیار کر گیا ہےجس سے مسلمانوں کا دور رہنا لازم و ضروری ہے۔ حضورﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے:

من تشبہ بقوم فھو منھم

یعنی جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔
(مسند احمد)

اور سنن ابی داؤد کتاب الجہاد میں صفحہ 69، جلد2 میں ہے:

من جامع المشرک و سکن معہ فانہ مثلہ

یعنی جس نے کسی مشرک کے ساتھ اشتراک عمل اور راہ و رسم کیا وہ اسی کے مثل ہے۔

مسلمانوں کے لئے حرام ہے کہ ان کے تہواروں میں اپنے گھروں کو انہیں چیزوں سے مزین کریں جن سے وہ لوگ کرتے ہیں پھر اس تاریخ میں انہیں ہدیہ دینا اور ان سے تحفہ لینا بھی حرام و ممنوع ہےاور اگر کرسمس ڈے کی تعظیم مقصود ہوتو (معاذاللہ) یہ کفر ہے درمختار جلد2، ص350 اور ردالمختار جلد5، ص481 میں ہے:

”الاعطاء باسم النیروزوالمھرجان (بان یقال ھدیۃ ھذالیوم-ش) لایجوز ای الھدایا باسم ھذین الیومین حرام و ان قصد تعظیمہ کما یعظمہ المشرکون یکفر“

یعنی نیروز اور مہرجان (مجوسیوں کی عیدوں کے نام) کےنام پرعطیہ کا تبادلہ “یہ کہہ کرکہ یہ آج کا ہدیہ ہے” جائزنہیں۔ یعنی ان دونوں دنوں کے ناموں پر تحفےدینا لیناحرام ہے اور اگر مشرکین مجوسی کی طرح ان کی تعظیم بھی کرے گا توکفر ہوگا۔

کرسمس کی مبارک باد دینا

اور ہدایا کی طرح مبارکباد کایوں تبادلہ بھی حرام وناجائز ہے جس سے مسلمانوں کو بچنا ضروری ہے۔ آتش بازی تو یوں بھی حرام و بدانجام اور شیطانی کام ہے جس میں ضیاع مال کے ساتھ ساتھ تلف جان کا بھی اندیشہ قوی ہے۔ چنانچہ ہر کرسمس ڈے کے موقع پر یورپ وامریکہ سمیت کئی ممالک میں درجنوں جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ جس کا اندازہ اخبارات وغیرہ کے مطالعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنےمال وجان کوہلاک ہونےسے بچائیں اور آتش بازی شیطانی کارسازی سے دور رہیں۔“
(فتاویٰ یورپ، صفحہ542، 541، مطبوعہ شبیربرادرز،لاہور)

سرکارﷺ نےارشاد فرمایا:

”لاتشبھوابلیھود ولابالنصاری“

یہودیوں اور عیسائیوں سے مشابہت اختیار نہ کرو۔
(جامع الترمذی، ابواب الاستیذان والادب، جلد 02، صفحہ 557، مکتبہ رحمانیہ، اردوباذار، لاہور)

شرح فقہ اکبر میں ہے:

”اجتمع المجومن یوم النیروز فقال مسلم: سیرۃ حسنۃ وضعوھا کفر ای لانہ استحسن وضع الکفر مع تضمین استقباحہ سیرۃ الاسلام“

یعنی نیروز کے دن مجوس جمع ہوئےتو مسلمان نے کہا ان کا کیسا اچھا طریقہ ہے تو وہ کافر ہو گیا کیونکہ اس نے کفر کو اچھا ثابت کرکے درحقیقت اسلام کی اچھائی کو قبیح قرار دیا۔ اسی طرح آگے بیان فرمایا:
”ومن اشتری یوم النیروز شیئا و لم یکن یشتریہ قبل ذلک، اراد بہ تعظیم النیروز کفر ای لان عظم عید الکفرہ“

یعنی جس نے نیروز کے دن کوئی شئی خریدی حالانکہ اس سے قبل وہ اس کونہیں خریدتا تھا اور یہ خریدنا نیروز کے تعظیم کے ارادے سے ہے تو اس نے کفر کیا کیونکہ اس نے کافروں کی عید کو معظم جانا۔”
(شرح فقہ اکبر، صفحہ نمبر 186، قدیمی کتب خانہ، کراچی)

چنانچہ البحرالرائق میں ہے:
”کفار کی موافقت کرنا اس کام میں جو خاص اس روز وہ لوگ کرتے ہوں اسی طرح یوم نیروز میں کچھ خریدنا اس دن کے باعث، جبکہ اس سے قبل وہ چیزیں نہیں خریدتاہاں مگر عام کھانے پینے کی چیز ہو تو حرج نہیں پھر یونہی مشرکین کو ہدیہ کرنا خاص اس روز کی تعظیم کی خاطر اگرچہ ایک انڈا ہی ہو اسی طرح کفار سے متفق ہوتےہوئے ان کے کسی “کام کو اچھا سمجھنا کفر ہے حتی کہ وعلماء نے فرمایا ہے: اگر کسی نے کہا: کھانا کھاتے وقت خاموش رہنا مجوسیوں کا اچھا کام ہے، یا حیض کی حالت میں عورت کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترک کرنا مجوسیوں کا اچھا طریقہ ہے تو وہ کافر ہے۔
(بحرالرائق، جلد5، صفحہ 208، مکتبہ رشیدیہ، کوئٹہ)

کرسمس کی بنیاد پر کیک دینا

 کرسمس کہ موقع پر کسی کو کیک دینے کا حکم بھی وہی ہے کہ اگر کافروں کے دن کی تعظیم کے طور پر ہے تو کفر ہے اور اگر کفار کے دن کی تعظیم کی نیت نہیں بلکہ دوستی، تعلق کے طور پر ہے مگر ہے کرسمس کی وجہ سے تو کفر نہیں مگر گناہ پھر بھی ہے جبکہ مقصود کرسمس کا گفٹ دینا ہے۔

اگر صرف اپنے گھر میں بیوی بچوں وغیرہ کے لئے خریدا اور مقصود یہ نہیں کہ آج کرسمس ہے اس لئے میں بھی لیتا چلوں بلکہ ویسے ہی کھانے پینے یا فیملی جائز فنکشن کے لئے خریدا تو اب کوئی حکم نہیں۔ جیسا کہ اوپر سے بھی واضح ہے۔

رہا جس مسلمان نے ایسا کیا تو ہم کیا سمجھیں گے کہ اس نے اس دن کی تعظیم کی نیت سے کیا یا محض دوستی و تعلق کی بنیاد پر کیا یعنی ہم اس کے فعل کو کفر کہیں گے یا گناہ؟ تو جب تک اس کی نیت کا علم نہیں ہو جاتا کہ اس نے اس دن کی تعظیم کی نیت کی تھی تو ہم اسے گناہ گار مسلمان سمجھیں گے، کافر نہیں سمجھیں گے اور اسکا علم اس کے اپنے بیان سے ہوگا۔

فتاوی قاضی خان میں ہے:
”اگر نیروز کے دن کوئی چیز خریدی جسے اس دن کے علاوہ نہیں خریدتا تو اگر اس خریداری سے مقصود اس دن کی تعظیم ہے جس طرح کفار کرتے ہیں تو کفر ہے اور اگر اس دن کی تعظیم کے لئے نہیں خریدی بلکہ زیادتی و آسودگی کے لئے تو کفر نہیں۔“
(فتاوی قاضی خان، جلد3 صفحہ 519، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

عیسائی کیک دے تو کیا کرے

اگر کوئی عیسائی کیک دے تو ہر گزنہ لیا جائے اور اگر جان مال کا خطرہ ہوتو لینے کی اجازت ہے مگر عام طور پر جان مان کا خطرہ نہیں بلکہ خود ساختہ تصور کیا جاتا ہے، ہاں یہ ٹینشن ہوتی ہے کہ اس کافر سے تعلق اچھے ہیں کیک نہ لیا تو ناراض ہو جائے گا لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔

اور اگر بفرض محال کہیں جان مال کا خطرہ ہو اور کیک لینا دینا پڑے تو جانوروں کو کھلادیں، پرندوں کو کھلا دیں۔ جس کے دل میں کوف خدا ہو، عشق مصطفٰےﷺ ہو یا جس کا گناہ و ممنوع کام سے بچنے کا ذہن ہو وہ راستہ بنا لیتا ہے بلکہ بحکم قرآن اللہ عزوجل اس کے لئے راستے آسان کر دیتا ہے۔

یہ بات بھی یاد رہے کہ 25 دسمبر جسے سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تاریخ پیدائش کہا جتا ہے حقیقتاََ تاریخ پیدائش نہیں ہے جس کا ذکر بلخصوص فتاوی یورب میں موجود ہے اس کا مطالعہ کریں۔ لہٰذا یہ دن مسلمانوں سے کوئی نسبت نہیں رکھتا تو اس کی خوشی منانا یا کسی طرح شریک ہونا غیر مسلموں کے مذہبی معاملات میں شرکت ہے۔میری کرسمس کا جواب دینا بھی جائز نہیں، ہاں اگر کسی موقع پر جان یا مال وغیرہ کا خطرہ ہو تو وہاں جواب دینے کی اجازت ہے، لیکن ایسی جگہ جہاں اس طرح کے ناجائز کام کرنے پڑیں وہاں سے کسی دوسری جگہ جانے کی کوشش کرنی جاہئے۔

انتہائی اہم مسئلہ

مسلمان دوست 25 دسمبر سے قبل ایک دوسرے کو مذاق میں کہتے کہ یار 25 دسمبر کو تمہاری عید آرہی ہے اور دوسرا مسلمان کہتا دوست بھی مذاق میں کہہ دیتا ہے کہ میری نہیں تیری عید آرہی ہے۔ معاذاللہ عزوجل ۔ اس کا جواب نہچے پڑھیں اور توبہ کریں۔

مثلاََ زید اور بکر دونوں نے یہ جملے ایک دوسرے کومذاق کے طور پر کہے دونوں نے بہت براکیا کہ یہ کفار کے ایک تہوار کے منانے کی دعوت دینا اگرچہ مذاق میں ہو انتہائی نامناسب ہے۔ ہاں اگر زید نے یہ جملہ بکر مسلمان کو عیسائی سمجھتے ہوئے کہا تو زید کافر ہو گیا اب بکر نے اس کے جواب میں اگر اس کو عیسائی مجھتے ہوئے کہا تو بکر کافر نہ ہو گا کہ زید پہلے ہی بکر بکر کو عیسائی سمجھنے کیوجہ سے کافر ہو چکا اور اگر زید نے بکر کو عیسائی نہ سمجھا تھا تو اب بکر نے اگر زید کو عیسائی سمجھتے ہوئے کہا تو اب بکر کافر ہو جائے گا کیونکہ کسی مسلمان کو کافر کہنا اگر اس وجہ سے و کہ کہنے والا اس کو کافر سمجھ رہا ہے تو اس طرح یہ کہنے والا کافر ہو جائے گا۔ جیسا کہ بحرالرائق میں ہے:

”یکفربقولہ لمسلم یا کافر والمختار للفتوی ان یکفران اعتقدہ کافرالا ان اراد شتمہ“

”یعنی مختار مذہب یہی ہے کہ مسلمان کو کافر سمجھتے ہوئے کافر کہا تو کفر ہے اور گالی کے طور پر کہا تو کفر نہیں۔“
(البحرالرائق207/5 مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ، کوئٹہ)

واللہ اعلم ورسولہ عزوجل و ﷺ

اپنا تبصرہ بھیجیں