Bheek

بلاحاجت سوال کرنا یعنی بھیک مانگنا

بلاحاجت کسی بھی مسلمان کو سوال کرنے (یعنی بھیک مانگنے) کی شریعت کی جانب سے اجازت نہیں ہے۔بھیک کی مذمت میں کئی احادیث مروی ہیں چنانچہ

احادیث مبارکہ

(1) حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی ہمیشہ لوگوں سے بھیک مانگتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت کی بوٹی نہ ہو گی ،نہایت بے آبرو ہو کر آئے گا۔”
(بخاری ، کتاب الزکوۃ،رقم ۱۴۷۴،ج۱،ص۴۹۹)

(2) حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ شفیع محشر صلي الله عليه وسلم
نے فرمایا :” تم میں سے جو شخص اپنی رسی لے کر اور لکڑیوں کا ایک گٹھا پیٹھ پر لاد کر لائے اور ان کو بیچے اور اللہ تعالیٰ بھیک مانگنے کی ذلت سے اس کے چہرے کو بچائے تو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ لوگوں سے بھیک مانگے اور وہ اس کو دیں یا نہ دیں۔
(بخاری، کتاب الزکوۃ،رقم۱۴۷۱،ج۱،ص۴۹۷ )

بھیک اور خراش

(3) حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا :” بھیک مانگنا ایک قسم کی خراش ہے کہ آدمی بھیک مانگ کر اپنے منہ کو نوچتا ہے تو جو چاہے اپنے منہ پر خراش کو نمایاں کرے اور جو چاہے اس سے اپنا چہرہ محفوظ رکھے۔ ”ہاں اگر آدمی صاحب سلطنت سے اپنا حق مانگے یا ایسے امر میں سوال کرے کہ اس سے چارہ کار نہ ہو تو جائز ہے۔”
(سنن ابی داؤد ، کتاب الزکوٰۃ ، باب ماتجوز فیہ المسألۃ،رقم الحدیث ۱۶۳۹، ج۲،ص۱۶۸)

(4) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے بھیک مانگتا ہے وہ گویا انگارہ مانگتا ہے تو اس کو اختیار ہے کہ بہت مانگے یا کم مانگے۔
(مسلم،کتاب الزکوۃ،رقم۱۰۴۱،ص۵۱۸)

(5) حضرتِ سیدنا کبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” میں تین باتوں میں قسم اٹھاتاہو ں اور تمہیں ایک کام کی بات بتاتاہوں اسے یاد کرلو(۱)صدقہ بندے کے مال میں کمی نہیں کرتا (۲)جس بندے پر ظلم کیا جائے اوروہ اس پر صبر کرے اللہ عزوجل اس کی عزت میں اضافہ فرمائے گا (۳)جس بندے نے سوال کا دروازہ کھولا اللہ عزوجل اس پر فقرکا دروازہ کھول دے گا۔”
(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء مث الدنیا اربعۃ نفر، رقم ۲۳۳۲، ج۴، ص ۱۴۵)

جہنم کا پتھر

(6) حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”امیر اور طاقتور کیلئے صدقہ حلال نہیں ۔ صدقہ صرف انتہائی غریب ، ادائیگیِ قرض سے ناتواں اوراس شخص کیلئے ہے جس پر دیت یا قصاص لازم ہوجائے اورجسں نے اس لیے لوگوں سے سوال کیا تاکہ مال میں کثرت ہوتو ایسا سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پر زخم اورجہنم کا پتھر ہوگا جسے یہ کھا ئے گا تو جو چاہے اس میں کمی کرے اورجو چاہے زیادتی کرے۔ ”اور حضور انے صدیق اکبر ، ابو ذر غفاری اور ثوبان رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”تمہار کوڑا بھی گر جائے تو کبھی کسی سے سوال مت کرنا”۔
(سنن الترمذی ، کتاب الزکوۃ ، باب ماجاء من لاتحل لہ الصدقۃ ، رقم الحدیث ۶۵۳،ج۲،ص۱۴۰)

اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)

اپنا تبصرہ بھیجیں