بغیر علم کے فتویٰ دینا کیسا ہے؟

ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہے جو علمِ دین سے بے بہرہ ہونے کے باجود دینی مسائل میں رائے زنی کو اپنا حق تصور کرتے ہیں اور لوگوں کو غلط مسائل بتا نے میں ذرا جھجھک محسوس نہیں کرتے حالانکہ معلِّم اعظم ا نے فرمایا ،”جوبغیر علم کے فتویٰ دے،اس پر زمین وآسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں ۔”
(کنزالعمال،رقم۲۹۰۱۴،ج۱۰،ص۸۴)

جاہل کا فتویٰ

امامِ اہل سنت الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :”جاہل پر سخت حرام ہے کہ فتوی دے ۔”
(فتاویٰ رضویہ ،ج ۱۰،نصف آخر ،ص ۲۷۵)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم

اپنا تبصرہ بھیجیں