اشکوں کی برسات

اشکوں کی برسات ہوتی تو چٹائی پرٹپ ٹپ کی آواز سنائی دیتی

پر رونق بازار میں ریشم کے کپڑے کی ایک دکان پراس دکان کا خادم مشغولِ دعا ہے اور اللہ پاک سے جنت کاسوال کر رہا ہے۔ یہ سن کر مالکِ دکان پر رقت طاری ہوگئی، آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے حتّٰی کہ کنپٹیا ں اور کندھے کانپنے لگے۔مالکِ دکان نے فوراً دکان بند کرنے کا حکم دیا، اپنے سر پر کپڑا لپیٹ کر جلدی سے اٹھے اور کہنے لگے: افسوس! ہم اللہ پاک پر کس قدرجری (یعنی نڈر) ہوگئے کہ ہم میں سے ایک شخص صرف اپنے دل کی مرضی سے اللہ پاک سے جنت مانگتا ہے۔ (یہ توبہت ہمت بھراسوال ہے) ہم جیسے (گنہگاروں ) کو تو اللہ عزوجل سے (اپنے گناہوں کی) معافی مانگنی چاہئے۔ یہ مالک دکان بہت زیادہ خوف خدا عزوجل کے حامل تھے، رات جب نَماز کیلئے کھڑے ہوتے تو ان کی آنکھوں سے اس قدر اشکوں کی برسات ہوتی کہ چٹائی پر آنسو گرنے کی ٹپ ٹپ صاف سنائی دیتی۔ اور اتنا روتے اِتنا روتے کہ پڑوسیوں کو رحم آنے لگتا۔
(ملَخص از اَ لخیرات ا لحسان للہیتَمِی ص۵۰،۵۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

آپ جانتے ہیں یہ کون تھے؟ یہ مالک دکان کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا، سراج الامہ، کاشف الغمہ، امام اعظم، فقیہِ افخم حضرت سیدنا امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابِت رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے۔

نہ کیوں کریں ناز اہلسنت ،کہ تم سے چمکا نصیب امت
سراج امت ملا جو تم سا، امام اعظم ابو حنیفہ
(وسائل بخشش ص ۲۸۳)

اپنا تبصرہ بھیجیں