مرد کا گھر میں نماز ادا کرنا کیسا؟

Mard ka ghar mein namaz parhna Hadees

مرد کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا واجب ہے ۔ (1)”الدرالمختار” و ”ردالمحتار”، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: شروط الإمامۃ الکبرٰی، ج۲، ص۳۴۰ بغیر کسی عذر کے اگر ایک بار بھی وہ گھر میں نماز ادا کرتا ہے تو نماز کی فرضیت تو ادا ہو جائے گی، لیکن اسےجماعت چھوڑنے کا گناہ ملے گا۔ نماز دوہرانے کی حاجت نہیں مگر بلا عذر جماعت ترک کرنے کا گناہ بھی ملے گا اور ستائیس نمازوں جتنا ثواب حاصل کرنے سے بھی محرومی رہے گی(2)”صحيح البخاري”، کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ، الحديث: ۶۴۵، ج۱، ص۲۳۲

پھر اگر کوئی سخت عذر ہے تو گھر میں نماز ادا کر سکتا ہے۔ لیکن وہ تب ہی ہے کہ واقعی عذر ہو۔ ایسا نہیں کہ نماز کی فرضیت گھر میں ادا ہو جاتی ہے تو بغیر کسی عذر کے پڑھتے رہیں۔ (معاذ اللہ) اور گھروں میں نماز ادا کرنے والوں کے بارے میں تو حضورﷺ نے سخت الفاظ ارشاد فرمائے ہیں۔ گھروں کو جلانے تک جتنی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ (3)صحیح بخاری، حدیث 644

جماعت چھوڑنے کے اعذار

(۱) مریض جسے مسجد تک جانے میں مُشقّت ہو۔
(۲) اپاہج۔
(۳) جس کا پاؤں کٹ گیا ہو۔
(۴) جس پر فالج گرا ہو۔
(۵) اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہے۔
(۶) اندھا اگرچہ اندھے کے ليے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے۔
(۷) سخت بارش اور
(۸) شدید کیچڑ کا حائل ہونا۔
(۹) سخت سردی۔
(۱۰) سخت تاریکی۔
(۱۱) آندھی۔
(۱۲) مال یا کھانے کے تلف (ضائع) ہونے کا اندیشہ۔
(۱۳) قرض خواہ کا خوف ہے اور یہ تنگ دست ہے۔
(۱۴) ظالم کا خوف۔
(۱۵) پاخانہ۔
(۱۶) پیشاب۔
(۱۷) ریاح کی حاجت شدید ہے۔
(۱۸) کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو۔
(۱۹) قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہے۔
(۲۰) مریض کی تیمارداری کہ جماعت کے ليے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائے گا، یہ سب ترک جماعت کے ليے عذر ہیں۔ (4)”الدرالمختار”، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۴۷ ۔ ۳۴۹ (درمختار)

یہ تو فرض نماز کا حکم تھا۔ جبکہ نفل نماز کے لیے خود شریعت نے حکم دیا ہے کہ گھروں میں ادا کرو اور گھروں کو قبرستان مت بناؤ۔(5)سنن ابي داود, ‏‏‏ حدیث رقم 1043

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں