کیا الو منحوس ہے؟

کیا الو منحوس ہے

عوام میں مختلف قسم کی جاہلانہ باتیں بائی جاتی ہیں۔ جن کا ان کا صحیح علم نہیں ہوتا۔ انہی میں سے ایک الو کو متعلقہ ہے۔ اکثر لوگ الو کو منحوس سمجھتے ہیں۔ اسلامی نقط نظر سے کیا الو منحوس ہے یا یہ ایک جاہلانہ خیال ہے؟

کیا الو منحوس ہے؟

الو ایک پرندہ ہے جس کو لوگ منحوس خیال کرتے ہیں حالانکہ اسلامی نقط نظر سے یہ ایک غلط بات ہے۔ الو کو منحوس خیال کرنا ایک جاہلانہ خیال ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے :

لا عدوى ولا هامة ولا صفر

یعنی رسول اللہﷺ نے فرمایا: چھوا چھوت کوئی چیز نہیں، الو میں کوئی نحوست نہیں اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں۔ (1)مشکوٰۃ، باب الفال و الطيرۃ، صفحہ 391

زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اس کے متعلق مختلف قسم کے خیالات رکھتے تھے اور اب بھی لوگ اسکو منحوس سمجھتے ہیں۔ جو کچھ بھی ہو حدیث نے اس کے متعلق ہدایت کی کہ اسکا اعتبار نہ کیا جاۓ۔ ماہ صفر کو لوگ منحوس جانتے ہیں حدیث میں فرمایا یہ کوئی چیز نہیں۔ (2)حاشیہ بہارشریعت، حصہ 16 ص 124

خلاصہ یہ کہ الو کو منحوس سمجھنا غلط ہے۔ نفع نقصان کا مالک صرف اللہ تبارک و تعالی ہے جو وہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ (3)غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح، صفحہ 171-172

حوالہ جات[+]

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں