چمکتے ہوئے چراغ

چمکتے ہوئے چراغ

حضرت سیدنابشربن حارث علیہ رحمۃاللہ الوارث فرماتے ہیں:”ایک مرتبہ میں ملک شام روانہ ہوا،راستے میں میری ملاقات ایک عجیب وغریب شخص سے ہوئی، اس کے جسم پر ایک پھٹا پرانا کرتہ تھا جس میں جگہ جگہ گرہیں لگی ہوئی تھیں ، وہ بڑا حیران وپریشان ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا گویا کہ وہ کسی خوفناک چیز سے وحشت زدہ ہے ۔ میں اس کے قریب گیا اورکہا:”اے بھائی! اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، آپ کہا ں سے آئے ہیں ؟”کہنے لگا :” اسی کے پاس سے آیا ہوں۔” میں نے پوچھا :”کہاں کا ارادہ ہے؟” کہنے لگا : ”اسی کی طرف۔”

نجات کی راہ

میں نے کہا:” اللہ عزوجل آپ پر رحم کرے، نجات کس چیز میں ہے ؟” کہنے لگا:” تقوی و پرہیزگاری اور اس ذات کے بارے میں غور وفکر کرنے میں جس کے تم طالب ہو ۔” میں نے کہا:” مجھے کچھ نصیحت فرمائیے ۔” وہ شخص کہنے لگا:” میں تمہیں اس قابل نہیں سمجھتاکہ تم نصیحت قبول کرو گے۔”میں نے کہا:” ان شاء اللہ عزوجل ! میں نصیحت قبول کروں گا۔”یہ سن کر اس نے کہا: ”لوگو ں سے ہمیشہ دور بھاگنا،کبھی ان کی قربت اختیار نہ کرنا ، دنیا سے ہمیشہ بے رغبت رہنا ورنہ یہ تجھے ہلاکتوں کے منہ میں ڈال دے گی۔

جس نے دنیاکی حقیقت کوجان لیا وہ کبھی بھی اس کی طر ف سے مطمئن نہیں ہوگا، جس نے اس کی تکالیف کودیکھ لیااس نے ان تکالیف کی دوائیں بھی تیار کر لیں، اور جس نے آخرت کوجان لیاوہ اس کے حصول میں مگن ہوگیا۔جوشخص بھی آخرت کی نعمتوں میں غوروفکرکرتاہے وہ ضروران کوطلب کرتاہے اورمشکل ترین نیک اعمال اس کے لئے آسان ہوجاتے ہیں۔جب ان اخروی نعمتوں کی طرف ہرسمجھدارکا دل مائل ہوتا ہے توجس پروردگارعزوجل نے یہ نعمتیں بنائیں اورانہیں پاکیزہ وسرورکن بنایا وہ ذات اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اس کی طر ف رغبت کی جائے، اوراسی کی رضاکے لئے اعمال صالحہ کئے جائیں۔

عقل مند لوگ

لہٰذاعقل مند لوگ مخلوق کی بجائے خالق کی طرف دل لگائے ہوئے ہیں، اسی کی محبت کے اسیرہیں۔ وہ پروردگارعزوجل انہیں اپنی محبت کے جام پلاتا ہے اوریہ لوگ اپنی زندگی میں ہر وقت اس کی محبت کے پیاسے ہیں، انہیں سیریابی ہوتی ہی نہیں،وہ ہر وقت اپنے خالق حقیقی عزو جل کے عشق میں مست رہتے ہیں۔ پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوکر پوچھنے لگا:”کیاتم ان باتوں کوسمجھ چکے ہوجومیں نے بیان کیں؟”میں نے کہا:”اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، جوکچھ آپ نے بیان کیامیں وہ تمام باتیں سمجھ چکاہوں۔”کہنے لگا:”اللہ عزوجل کاشکرہے کہ اس نے تمہیں یہ باتیں سمجھا دیں۔

یہ کہتے وقت اس کے چہرے پرایک خوشی کی لہردوڑگئی،پھر مجھ سے کہا:”تمہارے لئے وہ لوگ مشعلِ راہ ہیں جو اس کی محبت کے پیاسے ہیں اور وہ جامِ عشق سے سیرنہیں ہو تے،ان کے دلوں میں حکمت کے چشمے موجزن ہیں، یہ لوگ بہت عقل مند و تیز فہم ہیں، ان کی خواہشات انہیں گمراہ نہیں کرسکتیں اورنہ ہی کوئی انہیں اللہ عزوجل کی محبت سے غافل کر سکتاہے،اپنی مضبوطی اور دلیری میں یہ شیرکی طر ح ہیں،اپنے توکل میں غنی ہیں،مصیبتوں میں ثابت قدم رہنے والے ہیں،مخلوق میں سب سے زیادہ نرم دل اور انیس ہیں،شرم وحیا کے معاملے میں بہت شدید ہیں اور اپنے مقاصدمیں بہت شریف۔ نہ غرو ر وتکبر کرتے ہیں، نہ ہی جھوٹی عاجزی کرتے ہیں۔ پس یہ لوگ اللہ عزوجل کے مخلص بندے اور مخلوق کے لئے چمکتے ہوئے چراغ ہیں۔

بڑا ولی

پھر مجھ سے کہا:”اللہ عزجل ہمیں ان چند کلمات کا اچھا صلہ عطا فرمائے ۔” پھر اس نے سلام کیا اور جانے لگا تومیں نے کہا:”میں آپ کی صحبت میں رہنا چاہتا ہوں۔”مگراُس نے انکار کردیا اور کہا:”میں تجھے یا د رکھوں گا تو مجھے یا د رکھنا۔” یہ کہہ کر وہ چلا گیا، اور میں وہیں کھڑااسے دیکھتا رہا۔

حضرت سیدنا بشر بن حارث علیہ رحمۃاللہ الوارث فرماتے ہیں:” جب حضرت سیدنا عیسٰی بن یونس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے میری ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں یہ واقعہ سنایا تو وہ فرمانے لگے :”کہ اس نے تجھ سے محبت کا اظہار کیا، وہ بہت نیک شخص ہے اور اس کا شمار بڑے بڑے اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں ہوتاہے، اس نے ایک پہاڑ پر رہائش رکھی ہوئی ہے، صرف نماز جمعہ کے لئے شہر میں آتا ہے اور اس دن سوکھی لکڑیاں بیچتا ہے، ان سے جو رقم ملتی ہے وہ اسے پورے ہفتے کفایت کرتی ہے۔ مجھے تو تعجب ہے کہ اس نے تجھ سے بات چیت کی اورتو نے اس سے سنی ہوئی نصیحتو ں کو یاد کرلیا۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں