وہم کی اسلام میں کیا حقیقت ہے؟

وہم کی اسلام میں کیا حقیقت ہے؟

ایک بادشاہ اور اس کے ساتھی شکار کی غرض سے جنگل کی جانب چلے جا رہے تھے۔ صبح کے سنّاٹے میں گھوڑوں کی ٹاپیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ جنہیں سنتے ہی اکثر راہگیر راستے سے ہٹ جاتے تھے۔ کیونکہ بادشاہ سلامت شکار پر جاتے ہوئے کسی کا راستے میں آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کی سواری بڑی شان وشوکت سے شہر سے گزر رہی تھی۔

جونہی بادشاہ شہر کی چار دیواری کے قریب پہنچا۔ اس کی نگاہ سامنے آتے ہوئے ایک آنکھ والے شخص پر پڑی۔ جو راستے سے ہٹنے کے بجائے بڑی بے نیازی سے چلا آرہا تھا۔ اسے سامنے آتا ہوا دیکھ کر بادشاہ غصّے سے چیخا : ’’ اُف ! یہ تو انتہائی بَدشگونی ہے۔ کیا اس بَدبخت کا نے (1) یعنی ایک آنکھ والے شخص کو عِلْم نہیں تھا کہ جب بادشاہ کی سواری گزر رہی ہو تو راستہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن اس منحوس یک چشم (2) یعنی ایک آنکھ والے نے تو ہمارا راستہ کاٹ کر انتہائی نُحوست کا ثبوت دیا ہے۔ ‘‘

بادشاہ سپاہیوں کی جانب مُڑا اور غصے سے چیخا : ’’ ہم حکم دیتے ہیں کہ اس ایک آنکھ والے شخص کو ان ستونوں سے باندھ دیا جائے اور ہمارے لَوٹنے تک یہ شخص یہیں بندھا رہے گا۔ ہم واپسی پر اس کی سزا تجویز کریں گے۔ ‘‘ سپاہیوں نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور اس شخص کو ستونوں سے باندھ دیا گیا۔ بادشاہ اور اس کے ساتھی گرد اڑاتے جنگل کی جانب روانہ ہو گئے۔

شکار میں کامیابی

بادشاہ کے خدشات کے برعکس اس روز بادشاہ کا شکار بڑا کامیاب رہا۔ بادشاہ نے اپنی پسند کے جانوروں اور پرندوں کا شکار کیا۔ بادشاہ بہت خوش تھا کیونکہ آج اس کا ایک نشانہ بھی نہیں چُوکا۔ بلکہ جس جانور پر نگاہ رکھی اسے حاصل کر لیا۔ وزیر نے جانوروں اور پرندوں کو گنتے ہوئے کہا : ’’ واہ ! آج تو آپ کا شکار بہت خوب رہا، کیا نگاہ تھی اور کیا نشانہ ! ‘‘ اسی طرح تمام ساتھی بھی بادشاہ کی تعریف میں مصروف تھے۔

جب شام ڈھلے بادشاہ شہر کے قریب پہنچا توا س شخص کو رسیوں میں جکڑا ہوا پایا۔ بادشاہ کی سواری کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرندوں سے بھرا چھکڑا بھی چلا آرہا تھا جسے دیکھ کر بادشاہ اور اس کے ساتھی خوشی سے پھُولے نہ سَما رہے تھے۔ بھرا ہوا چھکڑا دیکھ کر وہ شخص زور دار آواز میں بادشاہ سے مخاطب ہوا : کہیے بادشاہ سلامت ! ہم دونوں میں سے کون منحوس ہے۔ میں یا آپ ؟ یہ سنتے ہی بادشاہ کے سپاہی اس شخص کے سر پر تلوار تان کر کھڑے ہوگئے۔ لیکن بادشاہ نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے روک دیا

۔ وہ شخص بِلا خوف پھر مخاطب ہوا : کہیے بادشاہ سلامت! ہم میں سے کون منحوس ہے ’’ میں یا آپ؟ ‘‘ میں نے آپ کو دیکھا تو میں رسیوں میں بندھ کر چِلچلاتی دھوپ میں دن بھر جلتا رہا جب کہ مجھے دیکھنے پر آپ کو آج خوب شکار ہاتھ آیا۔ یہ سُن کر بادشاہ نادِم ہوا اور اس شخص کو فوراً آزاد کر دیا اوربہت سے اِنعام و اِکرام سے بھی نوازا۔ (3) بدشگونی ، ص۶

وہم کی بنیاد پر کسی کو منحوس سمجھنا کیسا؟

پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سُنا کہ وہمی بادشاہ نے تو ایک آنکھ والے شخص کو منحوس جان کر اسے کڑی دُھوپ میں پورا دن قید رکھنے کی سزا دی۔ مگر پھر بھی اسے شکار میں پہلے سے کہیں زیادہ کامیابی حاصل ہوئی۔ اس حکایت سے تو ان کے وہم کی مکمل کاٹ ہو گئی۔ جو کسی انسان، جانور یا کسی دن مہینے کو محض اپنے وہم کی بنیاد پر منحوس خیال کرتے ہیں حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

یاد رکھئے! جو شخص وہم کی آفت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اسے ہر چیز منحوس محسوس ہونے لگتی ہے۔ حتّٰی کہ وہمی شخص کم عقل لوگوں کی باتوں میں آکر غلط فیصلے کر کے نہ صرف خود آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے بلکہ دیگر لوگوں کیلئے بھی وبالِ جان بن کر رہ جاتا ہے۔ کسی مسلمان کے منحوس ہونے کا خیال نفرت کے وبال میں ڈال سکتا ہے۔

منحوس ہونے کا وہم شیطان کا وہ ہتھیار ہے جو مسلمانوں کو باہم دست و گریبان کراتا، لڑائی، جھگڑے کروا کر چین و سکون کی بربادی کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ کسی شخص، جگہ، چیز یا وقت کو منحوس جاننے کا اسلام میں کوئی تصوّرنہیں یہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں۔

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں