نکاح کی فضیلت و اہمیت

نکاح کی فضیلت و اہمیت

اللہ پاک نے دنیا میں بہت سی جاندار مخلوقات پیدا فرمائیں، ان میں سے کسی کو نر رکھا اور کسی کو مادہ بنایا۔ اُن میں فطری خواہشات بھی رکھیں۔ انسان بھی اللہ پاک کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے لہذا اسے بھی شہوانی جذبہ دیا گیا۔ لیکن انسان کو اللہ پاک نے چونکہ تمام مخلوقات میں اشرف المخلوقات بنایا ہے اس لئے اُسے فطری خواہشات پوری کرنے کا ضابطہ بھی انتہائی اشرف و اعلی عطا فرمایا ہے۔ اگر انسان فطری خواہشات کے معاملے میں اس جائز و حلال ضابطے کی پاسداری کرے گا تو نہ صرف اپنی امتیازی شان بر قرار رکھ سکے گا بلکہ اللہ پاک اور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں سر خرو بھی ہو گا۔

واٹس ایپ گروپ (ابھی جوائن کریں) Join Now
یوٹیوب چینل (ابھی سبکرائب کریں) Subscribe

انسان کی فطری خواہشات کی تکمیل کیلئے ایک ضابطہ اور قانون مقرر ہے جو نکاح کی صورت میں ہے۔ نکاح ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو فطری تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اسلام نے ہمیں عطا فرمایا اور اس کے ذریعے ہمیں جانوروں سے ممتاز کر دیا۔

نکاح کی اہمیت

قرآن و حدیث میں نکاح کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور اس کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے۔ اللّہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ

ترجمہ : اور تم میں سے جو بغیر نکاح کے ہوں ان کے نکاح کر دو۔ (1)

نکاح کی فضیلت

نکاح کی فضیلت و اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خود نکاح فرما کر ازدواجی زندگی کو اہمیت بخشی۔ آپ ﷺ نے بارہا اپنے فرامین کے ذریعے نکاح و شادی کی ترغیب و اہمیت و فضیلت کو بیان فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ چار چیزیں رسولوں علیھم السلام کی سنتوں میں سے ہیں:

  1. حیاء کرنا
  2. عطر لگانا
  3. مسواک کرنا اور
  4. نکاح کرنا۔

آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میری فطرت (یعنی اسلام ) سے محبت کرتا ہے اُسے میری سنت اختیار کرنی چاہئے اور نکاح بھی میری سنت ہے۔ (2) ایک مقام پر ارشاد فرمایا: نکاح میری سنت ہے تو جس نے میری سنت پر عمل نہ کیا وہ مجھ سے نہیں۔ (3)

نکاح کے فوائد احادیث کی روشنی میں

  • نکاح کر کے اولاد کی کثرت کرو کہ میں قیامت کے دن تمہارے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔ (4)
  • تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھے وہ ضرور نکاح کرے کیونکہ نکاح، نگاہ کو جھکانے والا اور شرم گاہ کا محافظ ہے اور جو نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہئے کہ روزے رکھے کہ روزے اس کیلئے ڈھال ہیں۔ (5)
  • جس نے نکاح کیا بے شک اس نے اپنا آدھا دین بچالیا اب باقی آدھے میں اللہ پاک سے ڈرے۔ (6)
  • جب تم میں سے کوئی نکاح کر لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے ہائے افسوس! ابنِ آدم نے مجھ سے دو تہائی دین بچا لیا۔ (7)
  • دو محبت کرنے والوں کیلئے نکاح سے بہتر کوئی اور تعلق نہیں دیکھا گیا۔ (8)
  • شادی شدہ کی دو رکعتیں غیر شادی شدہ شخص کی ستر رکعتوں سے اور ایک روایت کے مطابق بیاسی رکعتوں سے بہتر ہیں۔ (9)

نکاح کی تاکید

نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ عکاف بن بشر تمیمی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوئے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عکاف تمہاری کوئی بیوی ہے؟ عرض کی نہیں۔ پوچھا: کوئی باندی ہے؟ عرض کی: نہیں۔ فرمایا: تم تو مالدار بھی ہو؟ عرض کی: جی ہاں۔ فرمایا : تب تو تم شیطان کے بھائی ہو، اگر تم عیسائیوں میں ہوتے تو ان کے راہبوں میں شمار ہوتے، ہماری سنت تو نکاح کرنا ہے۔

تم میں بد ترین لوگ وہ ہیں جو کنوارے ہیں اور گھٹیا ترین موت مرنے والے بھی وہ ہیں جو کنوارے ہیں، کیا تم شیطان سے لڑتے ہو؟ شیطان کے پاس نیک آدمیوں کے لئے عورتوں سے زیادہ کارگر ہتھیار کوئی نہیں، ہاں اگر وہ نیک لوگ شادی شدہ ہوں (تو شیطان کے ہتھیار سے بچ جاتے ہیں) وہی لوگ پاکیزہ اور گندگی سے محفوظ ہوتے ہیں۔ عکاف! نکاح کر لو ورنہ تذبذب کا شکار رہو گے، اُنہوں نے عرض کیا : یا رسول الله ﷺ آپ خود ہی کسی سے میرا نکاح کر دیجئے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے کریمہ بنتِ کلثوم حمیری سے تمہارا نکاح کر دیا۔ (10)

شیطان کا ہتھیار

نکاح کے اس قدر کثیر فوائد اور ایسی زبردست تاکید کے باوجود کسی اہم اور خاص وجہ کے بغیر شادی نہ کرنا نہ صرف بہت سی محرومیوں کا سبب ہے بلکہ اس کی وجہ سے بدکاری جیسے گناہ میں مبتلا ہونے کا بھی سخت اندیشہ ہے۔ کیونکہ غیر شادی شدہ شخص اگر چہ نیکوکار اور پرہیزگار ہو مگر عورت اس کیلئے شیطان کے کامیاب ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار ہے۔

شیطان اپنے اس ہتھیار کے ذریعے اسے زیر کرنے اور گناہ میں مبتلا کرنے کی مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے اور اس وجہ سے غیر شادی شدہ نیک بندے کیلئے شیطان کے اس وار سے بچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے نکاح کے ذریعے سے شیطان کے اس ہتھیار کا مقابلہ کرنا چاہئے تاکہ بدکاری جیسے ایک بڑے گناہ سے بچنے کا سامان ہو جائے اور اللہ پاک کی رضا بھی حاصل ہو۔ اللّہ پاک ہمیں اس سنت مصطفویہ ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

5/5 - (1 vote)

حوالہ جات

حوالہ جات
1 النور، 32
2 مصنف عبد الرزاق، حدیث :10418
3 ابن ماجہ،حدیث:1846
4 مصنف عبد الرزاق، حدیث: 10432
5 نسائی، حدیث: 3206
6 معجم اوسط، حدیث: 7647
7 مسند الفردوس، حدیث : 1222
8 ابن ماجہ، حدیث: 1847
9 جامع صغیر، حدیث: 2101
10 مسند احمد مسند، حدیث: 21506

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں