اپنا نسب، برادری یا خاندان بدلنا

نسب بدلنا

یہ بیماری بھی کافی عام ہو گئی ہے کہ۔ ہیں کسی قوم اور برادری کے اور خود کو دوسری قوم و برادری کا ظاہر کر رہے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ اس ذریعے سے برتری ، فضیلت اور عزت ملے۔ فضیلت عزت و ذلت تو اللہ پاک کے دست قدرت میں ہے۔ جسے جو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ یہ اپنا نسب بدلنے والے بہت بڑے بے وقوف، احمق اور جاہل ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

جو جانتے ہوۓ اپنے باپ کے سوا دوسرے کو اپنا باپ بتاۓ اس پر جنت حرام ہے۔ (1)صحیح بخاری ، کتاب الفرائض، جلد 2 ص 1001، صحیح مسلم جلد 1 ص 442

اور ایک دوسری حدیث میں اپنا نسب بدلنے والے اور اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کو باپ بتانے والوں کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان پر اللہ پاک اور فرشتوں اور سارے لوگوں کی لعنت ہے۔ (2)صحیح مسلم، جلد 1 صفحہ 495

اپنا نسب بدل کر سید کہلوانے والے

آجکل خود کوسید کہلانے اور آل رسول بننے کا شوق بہت زور پکڑ گیا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں، لاکھوں جو سید نہیں تھے وہ سید بن گئے۔ جس کی وجہ سے اب سیدوں کا احترام بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ نقلی سیدوں کی بھر مار ہے۔ خود میری معلومات میں ایسے کافی لوگ ہیں جو اب تک کچھ اور تھے اور اب چالیس اور پچاس کی عمر میں وہ سید اور آل رسول بن گئے۔ یہ سب بہت بڑے والے مکار دھوکے باز عیار، فریبی اور جعل ساز ہیں جن پر خدائے تعالی کی لعنت ہے۔

مرادآباد شہر میں ابھی جلد ہی ایک مولوی نے 55 سال کی عمر میں خود کو آل رسول اور سید کہلوانا شروع کر دیا ہے اور کہتا ہے کہ میرے پیر نے مجھے سید بنا دیا گویا کہ سیادت کے ساتھ مزاق ہورہا ہے۔ اور اس میں کافی دخل ہماری قوم کے بعض افراد کی اس بے جا عقیدت کا بھی ہے کہ انکی نظر میں علم وعمل، تقویٰ و طہارت کی کوئی قدر نہیں۔

بڑے باپ کا بیٹا

بس جو کسی بڑے باپ کا بیٹا ہے وہی سب کچھ ہے۔ حالانکہ اسلامی نقطہ نظر سے اور تو اور خود سادات کرام جن کا احترام و ادب ایمان کی پہچان ہے۔ ان سے وہ عالم دین جو تفسیر و حدیث و فقہ کا علم کافی رکھتا ہو وہ ان سادات سے افضل ہے جو عالم نہ ہوں۔ حدیث میں ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا :

من بطأ به عمله لم يسرع به نسبه

جس کا عمل اسے پیچھے دھکیل دے وہ نسب سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (3)الصحیح المسلم جلد 2 صفحہ 345

فضل علم فضل نسب سے اشرف و اعظم ہے۔ سید صاحب کہ عالم نہ ہوں اگرچہ صالح ہوں۔ عالم سنی صحیح العقیدہ کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے۔ (4)فتاوٰی رضویہ جلد نہم صفحہ 59

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں