نبوت کا بیان و مرتبہ اور وحی کی تعریف و اقسام

نبوت کابیان اور انبیاء علیہم السلام کے رتبے

اللہ پاک نے مخلوق کی ہدایت اوررہنمائی کے لئے جن پاک بندوں کو اپنے احکام پہنچانے کے واسطے بھیجا ان کو”نبی“ کہتے ہیں۔ انبیاءعلیہم السلام وہ بشر ہیں جن کے پاس اللہ پاک کی طرف سے وحی آتی ہے۔

وحی کسے کہتے ہیں؟

وحی کا لغوی معنی پیغام بھیجنا، دل میں بات ڈالنا، خفیہ بات کرنا ہے۔ جبکہ اصطلاح شریعت میں وحی اس کلام کو کہتے ہیں جو کسی نبی پر اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہو۔ انبیاء علیھم السلام کے حق میں وحی کی دو قسمیں ہیں:

  1. بالواسطہ
  2. بلاواسطہ

بالواسطہ یعنی کلام ربانی عزوجل فرشتہ کی وساطت سےنبی کےپاس آئےجیسےجبرائیل علیہ السلام کاوحی لانااوربلاواسطہ یعنی فرشتےکی وساطت کےبغیربنفس نفیس کلام ربانی عزوجل کو سننا جیسے معراج کی رات حضورﷺ نے سنا اور کوہ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سنا۔ اسی طرح نبی کو خواب میں جو چیز بتائی جائے وہ بھی وحی ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم ہوا۔(1)ملخص ازنزھتہ القاری شرح صحیح بخاری ج اص 234 مطبوعہ فرید بک اسٹال اردوبازارلاہور۔ بہارشریعت حصہ اول جلداول ص 10 مطبوعہ مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی۔

یہ وحی کبھی فرشتہ کی معرفت آتی ہےکبھی بےواسطہ۔ انبیاءعلیہم السلام گناہوں سےپاک ہیں ان کی عادتیں، خصلتیں (2)سیرت، مزاج نہایت پاکیزہ ہوتی ہیں۔ ان کا نام، نسب، جسم، قول، فعل، حرکات، سکنات سب سے اعلیٰ درجہ کے اور نفرت انگیز(3)نفرت دلانےوالی باتوں سےپاک ہوتے ہیں، انھیں اللہ تعالیٰ عقل کامل عطا فرماتا ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑاعقلمند ان کی عقل کے کروڑویں درجہ تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔

انہیں اللہ تعالیٰ غیبی باتوں (4)غیب کےلغوی معنی ہیں پوشیدہ۔ اور علم غیب سےمراد وہ چھپی ہوئی باتیں ہیں جو حواس خمسہ اور اندازے سے معلوم نہ ہو سکیں اورجن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کو خبر دی ہے۔ پر مطلع فرماتا ہے وہ رات دن اللہ تعالیٰ کی اطاعت وعبادت میں مشغول رہتے ہیں اور بندوں کو اللہ تعالیٰ کےحکم پہنچاتے اور اس کا رستہ دکھاتے ہیں۔

نبوت کیسے حاصل ہوتی ہے؟

نبوت بہت بلند اور بڑا مرتبہ ہے۔ کوئی شخص عبادت وغیرہ سےحاصل نہیں کرسکتا۔ چاہے عمر بھر روزہ دار رہے، رات بھرسجدوں میں رویا کرے، تمام مال و دولت خدا کی راہ میں صدقہ کردے، اپنےآپ بھی اس کے دین پر فدا (5)نثار، قربان ہو جائے مگر اس سے نبوت نہیں پا سکتا۔ نبوت اللہ پاک کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ نبی کی فرمانبرداری فرض ہے۔ انبیاءعلیہم السلام تمام مخلوق سے افضل ہیں۔

ان کی تعظیم و توقیر فرض اوران کی ادنیٰ توہین یا تکزیب (6)جھٹلانا کفر ہے۔ آدمی جب تک ان سب کو نہ مانے مومن نہیں ہو سکتا۔ اللہ پاک کے دربار میں انبیاءعلیہم السلام کی بہت عزت اور مرتبت ہے۔ وہ اللہ پاک کے پیارے ہیں۔ ان انبیاءعلیہم السلام میں سے جو نئ شریعت (7)اسلامی قانون، خدائی احکام لائے ان کو رسول کہتے ہیں۔

تمام انبیاءعلیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں جیسےدنیا میں تھے۔ ایک آن کے لئے ان پر موت آئی پھر زندہ ہو گئے۔ دنیا میں سب سے پہلے آنے والے نبی آدم علیہم السلام ہیں۔ جن سے پہلے آدمیوں کا سلسلہ نہ تھا۔ سب ہے پہلے اللہ پاک نے انہیں اپنی قدرت کاملہ سے بے ماں باپ کے پیدا کیا اور اپنا خلیفہ بنایا اور علم اسماء (8)تمام چیزوں اور ان کے ناموں کا علم عنایت کیا۔ فروشتوں کو ان کےسجدے کا حکم دیا۔ انہی سے انسانی نسل چلی۔ تمام آدمی انہیں کی اولاد ہیں۔

چند سوالات اور انکے جوابات

سوال: کیا جن اورفرشتے بھی نبی ہوتے ہیں؟
جواب: نہیں، نبی صرف انسانوں میں سے ہوتے ہیں اوراس میں سے بھی فقط مرد۔ کوئی عورت بھی نبی نہیں ہوتی۔

سوال: کیاغیرنبی کے پاس بھی وحی آتی ہے؟
جواب: وحی نبوت غیر نبی کے پاس نہیں آتی۔ جو اس کا قائل ہو وہ کافر ہے۔

سوال: کیا انبیاء کےسوا اور کوئی بھی معصوم ہوتا ہے۔
جواب: ہاں، فرشتے بھی معصوم ہوتے ہیں اور کوئی نہیں۔

سوال: معصوم کس کو کہتے ہیں؟
جواب: جو اللہ پاک کی حفاظت میں ہو اور اس وجہ سے اس کا گناہ کرنا ناممکن ہو۔

سوال: کیا امام اور ولی بھی معصوم ہوتے ہیں؟
جواب: انبیاء اور فرشتوں کے سوا معصوم کوئی بھی نہیں ہوتا، اولیاء کو اللہ پاک اپنے کرم سے گناہوں سے بچاتا ہے مگرمعصوم صرف انبیاء اور فرشتے ہی ہیں۔

سوال: علم اسماء کس کو کہتے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے جو حضرت آدم علیہ السلام کو ہر چیزاوراس کے ناموں کا علم عطا فرمایا تھا اس کو علم اسماء کہتے ہیں۔

سوال: فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو کیسا سجدہ کیا تھا؟
جواب: یہ سجدہ تعظیمی تھا، جوخدا کے حکم سے ملائکہ نے کیا اور سجدہ تعظیمی پہلی شریعتوں میں جائز تھا لیکن ہماری شریعت میں جائزنہیں ہوا۔ (9)کتاب العقائد ص 15 تا 18

حوالہ جات[+]

نبوت کا بیان و مرتبہ اور وحی کی تعریف و اقسام” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں