ماہ رجب کے فضائل

ماہ رجب کے فضائل

رجب خوب ثواب کمانے کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں نیکیوں کا اجر ڈبل کر دیا جاتا ہے۔ اس میں دعائیں قبول ہوتیں ، اس میں مشکلات حل ہوتی ہیں، اوراس مہینے میں مومن کی دعا رد نہیں کی جاتی۔

ماہ رجب کے فضائل

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک کے پسندیدہ مہینوں میں رجب کا مہینہ ہے، یہ اللہ پاک کا مہینہ ہے۔ جس نے اللہ پاک کے مہینے رجب کی تعظیم کی، اس نے اللہ پاک کے حکم کی تعظیم کی اور جس نے خدا تعالیٰ کے حکم کی تعظیم کی اللہ پاک اس کو نعمتوں والے باغات میں داخل کرے گا اور اس کے لئے اپنی بڑی رضا واجب کرے گا۔ (1) شعب الايمان:۳/۳۷۴،حدیث ۳۸۱۳

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: رجب اللہ پاک کا مہینا اور شعبان میرا مہینا اوررمضان میری امت کا مہینا ہے۔ (2) الفردوس بمأثور الخطاب ج۲ص۲۷۵ حدیث ۳۲۷۶

حرمت والا مہینہ

رجب المرجب بھی ان چار مہینوں میں سے ایک ہے، جن کی حرمت و عظمت کا ذکر قرآن پاک میں کیا گیا ہے جیسا کہ:

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ﳔ (3)پ۱۰،التوبة:۳۶

ترجمہ:بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہيں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ،ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے۔

یہ چاروں مہینےاسلام سے پہلے ہی محترم مانے جاتے تھے ۔ اسلام نے بھی ان مہینوں کے احترام کو باقی رکھا۔ بلکہ مزید بڑھا دیا اور ان مہینوں میں خصوصیت کے ساتھ گناہوں سے باز رہنے کا حکم دیا ۔ جیسا کہ:

فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ (4)پ۱۰،التوبة:۳۶

ترجمہ: تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو۔

اس لئے کہ اس مہینے میں توبہ کرنے والوں پر رحمت کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے اور عبادت کرنے والوں پر قبولیت کے انوار برستے ہیں۔

جنت کی نہر

جنت کی ایک نہر کا نام بھی “رجب “ہے جس کا پانی دودھ سے زيادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ تو جو کوئی رجب کا ایک روزہ رکھے تو اللہ پاک اسے اس نہر سے سیراب کر ے گا ۔” (5) شعب الایمان ج۳ص۳۶۷حدیث۳۸۰۰

اس ماہ کو “شہررجم”بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں شيطانوں کو رجم یعنی سنگ سار کیا جاتا ہے تاکہ وہ مسلمانوں کو ایذاء نہ دیں۔ اس ماہ کو اصم (6)یعنی خوب بہرا بھی کہتے ہیں کیونکہ اس ماہ میں کسی قوم پر اللہ پاک کے عذاب کے نازل ہونے کے بارے میں نہیں سنا گیا۔ اللہ پاک نے گزشتہ امتوں کو ہر مہینے میں عذاب دیا اور اس ماہ میں کسی قوم کو عذاب نہ دیا۔ (7)غنیة الطا لبین ص۲۲۹

احادیث مبارکہ اور رجب کے فضائل

آئیے رجب کی فضیلت پر مشتمل تین احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ چنانچہ

1. پیارے آقا ﷺ نے ایک بار صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا: تم پر لازم ہے کہ ماہ رجب کی راتیں قیام میں گزارو اور اس کے دن روزے کی حالت میں گزارو۔ اور جو شخص اس مہینے کے کسی دن میں پچاس (رکعت) نماز پڑھے، اس طرح کہ ہر رکعت میں بقدر استطاعت قرآن پاک کی تلاوت کرے ، تو اللہ پاک اس شخص کو اس کے بالوں اور رؤوں کی تعداد کے برابر نیکیاں عطا فرمائے گا۔ (8)تاریخ دمشق،٤٣ /٢٩١، ذکر علی بن یعقوب بن یوسف بن عمران البلاذری

2. ایک بار پیارے آقا ﷺ نے رجب کے مہینے میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! بے شک تم پر ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہے، اس مہینے میں نیکیوں کا اجر دگنا دیا جاتا ہے، اس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس میں مشکلات حل ہوتی ہیں، اوراس مہینے میں مومن کی دعا رد نہیں ہوتی، پس جو شخص اس مہینے میں کوئی بھلائی کا کام کرے تو اس کو کئی گنا اجر دیا جاتا ہے۔ (9)تاریخ دمشق،٤٣ /٢٩١، ذکر علی بن یعقوب بن یوسف بن عمران البلاذری

3. سرکار مدینہ ﷺ کا فرمان ہے: رجب کے مہینے میں استغفار کی کثرت کرو۔ پس بے شک اس کے ہر ہر لمحے میں کئی کئی افراد کو اللہ پاک آگ سے خلاصی عطا فرماتا ہے۔ (10)کنزالعمال، ج۱،حصہ اول، ص۲۴۳، کتاب الاذکار،الفصل الاول فی الاستغفار، حدیث:۲۰۹۸

27 رجب کی فضیلت

جس طرح رجب کی پہلی شب نہایت اہم ہے، اسی طرح اس کی 27 تاریخ بھی بہت فضیلت والی ہے۔ کیونکہ یہی وہ عظیم رات ہے، جس میں پیارے آقاﷺ کی طرف پہلی وحی بھیجی گئی اور اسی رات میں سرکار دوعالم ﷺ معراج کے لئے تشریف لے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ستائیسویں شب میں عبادت کرنے اور اس کے دن میں روزہ رکھنے والے خوش نصیبوں کو ڈھیروں اجر و ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ آئیے اس ضمن میں 3 فرامین مصطفٰے ﷺ ملاحظہ فرمایئے:

  1. 27 رجب کو مجھے نبوت عطا ہوئی جو اس دن کا روزہ رکھے اور افطار کے وقت دعا کرے، دس برس کے گناہوں کا کفارہ ہو۔(11)فتاویٰ رضویہ ،ج۱۰ ص۶۴۸،از فیضان سنت، ص۱۳۶۷
  2. 27 رجب میں نیک عمل کرنے والے کو 100 برس کا ثواب ملتا ہے۔(12)شعب الایمان ج۳ص۳۷۴ حدیث ۳۸۱۲
  3. رجب میں ایک دن اور ایک رات ہے، جو اس دن کا روزہ رکھے اور وہ رات نوافل میں گزارے، یہ سو برس کے روزوں کے برابر ہو اور وہ 27 رجب ہے۔ اسی تاریخ کواللہ پاک نے محمدﷺ کو مبعوث فرمایا۔(13)شعب الایمان ج۳ص۳۷۳حدیث۳۸۱۱

ماہ رجب کے ابتدائی تین روزوں کی فضیلت

رجب کے ابتدائی تین روزوں کی فضیلت کے بارے میں سرور کونین ﷺ کا فرمان ہے:’’رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے اور دوسرے دن کا روزہ دو سال کا اور تیسرے دن کا ایک سال کا کفارہ ہے، پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے۔‘‘ (14)الجامع الصغیر للسیوطی ص۳۱۱ حدیث ۵۰۵۱ یہاں “گناہ کا کفارہ” سے مراد یہ ہے کہ یہ روزے، گناہ صغیرہ کی معافی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

رجب المرجب کی دعا

جب رجب کا مہینا آتا تو نبی اکرم ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے :

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبٍ وَّشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَارَمَضَان ۔

یعنی اے اللہ پاک! تو ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکتیں عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا ۔ (15) المعجم الا وسط للطبرانی، ج۳، ص۸۵، الحدیث : ۳۹۳۹

رجب کے روزے

رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جس نے رجب کاایک روزہ رکھا تو وہ ایک سال کے روزوں کی طرح ہو گا ۔ جس نے سات روزے رکھے اس پر جہنم کے ساتوں دروازے بند کر دیے جا ئیں گے، جس نے آٹھ روزے رکھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے، جس نے دس روزے رکھے وہ اللہ پاک سے جو کچھ مانگے گا اللہ پاک اسے عطا فرما ئے گا۔

 جس نے پندرہ روزے رکھے تو آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ تیرے پچھلے گناہ بخش دئیے گئے پس تو ازسر نو عمل شروع کر کہ تیری برائیاں نیکیوں سے بدل دی گئیں ۔ اور جو زائد کرے تو اللہ پاک اسے زیادہ دے ۔ اور رجب میں حضرت نوح علیہ السلام کشتی میں سوار ہوئے توخود بھی روزہ رکھا اور ہمراہیوں کو بھی روزے کا حکم دیا ۔ ان کی کشتی دس محرّم تک چھ ماہ برسر سفر رہی ۔(16) شعب الایمان ج۳ص۳۶۸حدیث۳۸۰۱

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو کوئی 27 رجب کا روزہ رکھے، اللہ پاک اس کیلئے ساٹھ مہینے کے روزوں کا ثواب لکھے۔(17) فضائل شہر رجب ، للخلال ص۱۰

سوسال کے روزے کا ثواب

27 رجب کی عظمتوں کے کیا کہنے! اسی تاریخ میں ہمارے آقا ﷺ کومعراج شریف کاعظیم معجزہ عطا ہوا ۔ (18) شرح الزرقانی علی المواہبِ اللدنیۃ ج۸ص۱۸ چنانچہ 27 رجب کے روزے کی بڑی فضیلت ہے۔ جیسا کہ فرمان آخری نبی ﷺ ہے : ’’رجب میں ایک دن اور رات ہے جو اس دن روزہ رکھے اور رات کو قیام (عبادت) کرے تو گویا اس نے سو سال کے روزے رکھے، سو برس کی شب بیداری کی اور یہ رجب کی 27 تاریخ ہے ۔ ‘‘ (19) شعب الایمان ج۳ص۳۷۴حدیث ۳۸۱۱

حوالہ جات[+]

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں