ایسی خاتون لاکھوں میں ایک ہوتی ہے

ایسی خاتون لاکھوں میں ایک ہوتی ہے

ایک خاتون جب بھی اپنے شوہر کو پسند کا کھانا لاتی تو شوہر کہتا اچھا ہے لیکن میری ماں اس سے بہتر پکاتی ہے۔ بیوی شوہر کو مسکرا کر دیکھتی اور چلی جاتی۔ جب بھی بیوی اچھا پرفیوم لگاتی وہ اس سے کہتا ہے کمال ہے میری ماں کی خوشبو کی طرح ہے۔ وہ مسکرا کر رہ جاتی اور اس طرح اس خاتون نے ساری زندگی ایسے ہی الفاظ سن سن کر گزاری ۔ ماں کرتی ہے، ماں کہتی ہے، ماں کا پرفیوم، ماں کا کھانا پکانا وغیرہ وغیرہ بیوی ہر بار مسکرا کر رہ جاتی ۔

شادی کے 27 سال بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ والدہ کی تدفین کے بعد شوہر اکیلا بیٹھا تھا اس کی بیوی اس کی آزمائش میں اسے تسلی دینے گئی۔ تو اس نے اس سے کہا: اب تمہارا کھانا پکانا میری ماں کے پکانے جیسا ہو گیا ہے، اور تمہاری باتیں میری ماں کی طرح ہیں اور تمہاری ہنسی اور تمہاری خوشبو بھی میری ماں جیسی ہوگئی ہے۔ خاتون مسکرا کر بولی وہ کیسے؟

تو شوہر نے کہا : میں نے تم سے 27 سال کی عمر میں شادی کی تھی اور ہماری شادی کو 27 سال ہو چکے ہیں۔ اب تم میری ماں جیسی سوچ رکھنے لگی ہو۔ بیوی کہنے لگی آپ ریاضی کے پروفیسر ہیں پھر بھی آپ کا حساب غلط ہے۔ شوہر نے کہا وہ کیسے بیوی کہنے لگی ۔ میں جب تک زندہ ہوں آپ کی ماں کے برابر نہیں بن سکتی ۔ ان کے 54 سال دینا میرے 27 سال کے برابر نہیں ہوسکتے اور جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے میں ان کے برابر نہیں ہوسکتی۔

مثالی خاتون

خاوند فرط جذبات سے رو پڑا اور کہنے لگا۔ کیا تمہیں کبھی میری ماں سے تشبیہ دینے کی تکرار سے پریشانی نہیں ہوئی۔ کیوںکہ میں ہر کام میں ماں کو یاد کرتا اور انکی تعریف کرتا تھا۔ جیسا کہ دوسری خواتین کرتی ہیں۔ اس نے کہا، “نہیں، کبھی نہیں بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ خاوند نے کہا وہ کون سی باتیں ہیں جو تم تمنا کرتی رہی اور میں تم سے پوچھ نہ سکا ۔ بیوی نےکہا: جب بھی آپ اپنی ماں کی بات کرتے اور میرا موازنہ ان سے کرتے تھے۔

میں کہتی اے اللہ میرے بیٹے کے دل میں میری محبت ویسے ہی ڈال دے جس طرح تو نے اس کی دادی کی محبت اس کے باپ کے دل میں ڈالی ہے۔ کیونکہ آپ اپنی والدہ سے محبت تمام حدوں سے بڑھ کر ہے اور میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ میرا بیٹا بھی مجھ سے ویسی ہی محبت کرے جیسی آپ اپنی والدہ سے کرتے ہیں۔ میرے سر تاج مجھے آپ پر فخر ہوتا تھا کیونکہ آپ کا بیٹا آپ پر ہی جائے گا۔

اے اللہ ہمیں والدین کی رضا حاصل کرنے والوں میں شامل فرما۔ اگر آج کی بہو یہ بات یہ گر سیکھ لے تو بڑھاپے میں پرسکون رہے گی ۔ آج کسی کے بیٹے پر قبضہ جمانے کی کوشش کل اپنے بیٹے کو ہاتھوں سے نکال دے گی۔ کیونکہ دنیا مکافات عمل ہے۔

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں