قرآن پاک پڑھ کر عقل بھی ختم نبوت کی گواہی دیتی ہے

قرآن پاک پڑھ کر عقل بھی ختم نبوت کی گواہی دیتی ہے

جب ایک عقل سلیم رکھنے والا شخص قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے تو بہت ساری آیتیں اسے بتاتی ہیں کہ محمد ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں۔

کسی بھی نبی کے بعد دوسرے نبی کے آنے کی چند وجوہات درج ذہل ہیں:

(1)۔ جب پچھلی کتاب میں تحریف کی جاتی تو اس کی درستگی کیلئے یا از سر نو احکام الٰھیہ پہنچانے کیلئے نبی تشریف لاتے۔ چونکہ قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ اللہ پاک نے لیا ہے۔ لہذا اس میں تحریف نہیں ہو سکتی تو یہ رہتی دنیا تک لوگوں کی ہدایت کیلئے کافی ہے۔ اس لیے اب کوئی نبی نہیں آ سکتا۔

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹)

ترجمہ: بیشک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔(1)سورة الحجر، آیت 9

(2)۔ مختلف قوموں میں مختلف انبیاء کو بھیجا جاتا۔ چونکہ نبی پاک ﷺ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اب کسی دوسرے نبی کا آنا ممکن نہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۲۸)

ترجمہ: اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔ (2)سورۃ سبا، آیت 28

(3)۔ انبیاء کرام کو جس مقصد کیلئے بھیجا جاتا۔ وہ مقصد بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنا تھا۔ وہ کام اب اس امت کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اس لیے اب کسی نبی کا آنا ممکن نہیں

كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ-

ترجمہ: (اے مسلمانو!) تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت ) کے لئے ظاہر کی گئی، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔(3)سورۃ آل عمران، آیت 110

(4)۔ نئے درپیش آنے والے مسائل کے حل کیلئے انبیاء کو بھیجا جاتا چونکہ قرآن پاک تبیانا لكل شیء ہے۔ اس لیے اب کسی نبی کا آنا ممکن نہیں۔

وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠(۸۹)

ترجمہ: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو۔(4)سورۃ النحل، آیت 89

لہذا معلوم ہوا کہ عقل سلیم رکھنے والا لازمی طور پر حضور ﷺ کو خاتم النبیین مانے گا اور یہ بات قرآن پاک واضح طور پر بیان کر رہا ہے۔

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں