شب معراج کی فضیلت اور نوافل

شب معراج کی فضیلت

معجزات سیرت انبیاء علیہم السلام کا بہت ہی نمایاں اور روشن باب ہیں۔ ان کی حقانیت سے کسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا۔ قانون الٰہی ہے اس نے جب بھی انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے تو ہر نبی کو معجزہ بھی عطا کیا۔ جسے دیکھ کر لوگوں کی عقلیں دنگ رہ جاتیں اور اس نبی کی دعوت کا انکار کرنے والے لوگ باوجود بہت کوشش کے اس معجزہ کا مثل لانے سے عاجز رہتے۔

واٹس ایپ گروپ (ابھی جوائن کریں) Join Now
یوٹیوب چینل (ابھی سبکرائب کریں) Subscribe

اللّٰہ پاک نے سب سے زیادہ معجزات ہمارے آخری نبی ﷺ کو عطا فرمائے۔ نبی کریم ﷺ کے ان لاتعداد معجزات میں سے ایک منفرد، ممتاز اور نمایاں معجزہ معراج ہے۔ نبی کریم ﷺ رات کے تھوڑے سے حصے میں ساتوں آسمان، عرش و کرسی سے بھی اوپر تشریف لے گئے اور کائنات کی سرحدیں پار کرکے لامکاں کی سیر فرما کر واپس زمین پر جلوہ گر ہوئے۔

معراج کا معنی

ویسے تو لفظ معراج کا معنی “بلندی” ہے لیکن عموماً جب بھی معراج بولا جاتا ہے تو اس سے معراج مصطفی ﷺ مراد لیا جاتا ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کا بہ سواریٔ براق عرش الٰہی تک جانا اور تجلیاتِ الٰہی کا نظارہ کرنا ، اسرار ربانی کے انکشاف سے عروج پانے کا وقت ہے۔

شب معراج کی فضیلت

حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے : ر جب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والے کیلئے 100 برس کی نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور وہ رجب کی 27 ویں شب ہے۔ (1)

اللّٰہ پاک قرآن مجید میں اسی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(1)

ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والاہے۔ (2)

واقعہ معراج کا پس منظر

جب سے نبی کریم ﷺ نے اپنی نبوت ورسالت کا اعلان فرمایا تھا اور لوگوں کو خُدائے واحد کی عبادت کی طرف بلانا شروع فرمایا تھا۔ تب سے شرک وکفر کی فضاؤں میں پروان چڑھنے والے لوگ آپ ﷺ کی جان کے دشمن ہو گئے تھے۔ حالانکہ آپ ﷺ کی مبارک حیات کے ہر ہر باب کا ہر ہر ورق اُن کے سامنے تھا۔ جو شبنم سے زیادہ پاکیزہ، پھول سے زیادہ شگفتہ، آفتاب و ماہتاب سے زیادہ روشن و چمک دار اور ظاہری باطنی ہر قسم کے عیب و برائی سے پاک تھا۔

اس کے باوجود وہ آپ ﷺ کو جھٹلانے لگے۔ نبوت کی روشن نشانیاں دیکھ کر جب لا جواب ہو جاتے اور کچھ بن نہیں پڑتا تو انہیں سحر و جادو گری قرار دے دیتے۔ ظالموں نے آپ ﷺ کی راہ میں کانٹے بچھائے، جسم نازنین پر پتھر برسائے، تکالیف و مصائب کے پہاڑ توڑ ڈالے اور طعن و تشنیع کا بازار خوب گرم کیا۔

نبی کریم ﷺ نے تمام تر رکاوٹوں، پریشانیوں اور مصیبتوں کے باوجود اعلائے کلمۃ الحق (حق کی سربلندی) کے لئے مصروف عمل رہے۔ کرتے کرتے رجب کا مبارک مہینہ آجاتا ہے اور جب اس کی ستائیسویں شب ہوتی ہے تو اس مبارک رات میں اللہ پاک نبی کریم ﷺ کو وہ شرف عطا فرماتا ہے کہ نہ کسی کو ملا نہ ملے۔ یہ وہ حیرت انگیز واقعہ تھا کہ سننے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ اس حیرت انگیز واقعے کو واقعہ معراج کہا جاتا ہے۔

واقعہ معراج

سفر معراج کی ابتداءیوں ہوئی کہ نبی کریم ﷺ اپنی چچا زاد بہن حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر پر آرام فرمارہے تھے۔ حضرت اُم ہانی رضی اللہ عنها، مولی علی شیر خدا رضی الله تعالى عنہ کی ہمشیرہ ہیں۔ نبی کریم ﷺ ان کے گھر میں آرام کر رہے تھے۔ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام وہاں آئے اور نبی کریم ﷺ کو حطیم (خانہ کعبہ کے پاس ایک جگہ میں لے گئے۔

وہاں جا کر نبی کریم ﷺ کو پہلے اس سفر کے لیے تیار کیا گیا۔ یہ کوئی عام سفر نہیں، زمین، پھر آسمان پھر اُس سے بھی ماوراء کا سفر ہے۔ آسمانوں کا کھلنا، انہیں پار کرنا، ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں فرشتوں کو دیکھنا، اسرار الہٰیہ کا کھلنا، سدرۃ المنتھیٰ پر جانا، اُس سے بالا تشریف لے جانا۔ جنت کی سیر، جہنم کا مشاہدہ، عرش پر تخت نشین ہونا، رب العالمین سے ملاقات، خدا کا دیدار، چھائے ہوئے انوار کو برداشت کرنا، وغیر ہا ہزارہا امور تھے۔

شق الصدر

لہذا یہ اس قدر بڑا واقعہ تھا کہ اس کے لیے قوی دل کو مزید قوت چاہیے تھی کہ ان تمام انوار و احوال و مراحل کا متحمل ہو سکے۔ ان امور کے لیے قلب اطہر کو تیار کرنے کے لیے پہلے پاکیزہ نبی ﷺ کا پاکیزه و روشن سینہ مبارکہ کھولا گیا، اس میں سے قلب اطہر نکالا گیا، اسے کھول کر اس میں نور اور حکمت کو ڈالا گیا۔ (3)

نبی کریم ﷺ کے قلب اطہر میں نور و حکمت ڈال کر پہلے اسے اس قدر قوی و قابل بنایا گیا کہ سارے کے سارے مرحلوں کو طے کر سکیں، آسمانوں کی سیر کر سکیں، رب سے ہم کلام ہو سکیں اور خدا کا بے حجاب دیدار کر سکے سکیں۔ پھر اس عمل کے بعد قلب اطہر کے ساتھ سینہ اقدس کو جوڑا گیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں براق پیش کیا گیا۔

نبی کریم ﷺ اس پر سوار ہونے لگے، تو براق نے اچھلنا شروع کر دیا، تو حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے اس براق سے کہا کہ اے براق! تجھے معلوم نہیں کہ کا ئنات کی سب سے افضل ہستی تجھ پر سوار ہونے والی ہے۔ (4) نبی کریم ﷺ کی شان و عظمت سن کر براق ساکن ہو گیا۔ سید الانبیاء ﷺ اس پر جلوہ فرما ہوئے اور براق کا سفر شروع ہوا۔ براق کی رفتار کا عالم یہ تھا کہ جہاں اس کی نگاہ پڑتی تھی وہاں اس کا قدم جاتا تھا۔

تمام انبیاء علیہم السلام کی امامت

مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصیٰ تک سفر کے درمیان کئی واقعات پیش آئے۔ بیت المقدس میں انبیائے کرام علیہم الصلوة والسلام کی امامت کے علاوہ اس مرحلے میں نبی کریم ﷺ نے مختلف مقامات پر نماز ادا فرمائی:

  • سب سے پہلے ایک جگہ آئی، جہاں جبرئیل امین علیہ السلام نے عرض کی: یارسول اللہ! یہاں دو رکعت نماز پڑھیے۔ نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھی اور پوچھا کہ اے جبرائیل یہ کیا ہے؟ عرض کی، یہ آپ کی ہجرت گاہ (مدینہ) ہے۔ یہاں پر آپ ہجرت کر کے تشریف لائیں گے۔
  • اس کے بعد آگے ایک اور مقام آیا، وہاں جبرئیل امین علیہ السلام نے عرض کی یارسول اللہ ! یہاں بھی نماز پڑھیے۔ نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھی۔ پوچھا: اے جبرائیل یہ کون سی جگہ ہے؟ عرض کی، یہ طور سینا ہے۔ جہاں پر حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے رب سے کلام کیا تھا۔ دو رکعت یہاں دور پڑھیں۔
  • اس کے بعد آگے جب بیت المقدس میں پہنچے، وہاں پر ایک جگہ آئی۔ جبرئیل امین علیہ السلام نے پھر عرض کی: یارسول اللہ ! نماز پڑھیے ، نبی کریم ﷺ نے دور کعت نماز ادا فرمائی۔ پوچھا: یہ کون سی جگہ ہے؟ عرض کی، یہ بیت اللحم “ ہے۔ یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کی جگہ ہے۔ (5)

جب مسجد میں تشریف لے گئے، تو وہاں جملہ انبیائے کرام عليهم الصلوة والسلام بنفس نفیس موجود تھے۔ اب وہاں صفیں بندھی ہوئی ہیں، صفوں میں انبیاء عليهم الصلوة والسلام کھڑے ہیں۔ وہاں آپ ﷺ نے تمام انبیاء کرام کی نماز کی امامت کرائی۔

سفر معراج

اس کے بعد پھر وہاں سے اگلا سفر شروع ہوا جو آسمانوں کی طرف تھا اور آسمانوں کا سفر بھی اسی براق کے ذریعے تھا۔ لیکن وہ چند لمحات میں سارے فاصلے طے کرتا ہوا پہلے آسمان پر، وہاں سے دوسرے آسمان پر، وہاں سے تیسرے آسمان سے ہوتے ہوئے دیگر آسمانوں کو پار کر گیا۔

نبی کریم ﷺ آسمانوں سے گزرے، تو پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی دوسرے پر حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ، تیسرے پر حضرت يوسف، چوتھے پر حضرت ادریس، پانچویں پر حضرت ہارون ، چھٹے پر حضرت موسیٰ اور ساتویں پر حضرت ابراہیم علھم السلام سے ملاقات ہوئی۔ (6) ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم خليل الله علیہ السلام سے ملاقات فرمانے کے بعد نبی کریم ﷺ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس تشریف لائے۔

سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے؟

یہ ایک نورانی بیری کا درخت ہے، جس کی جڑ چھٹے آسمان پر اور شاخیں ساتویں آسمان کے اوپر ہیں۔ اس کے پھل مقام ہجر کے مٹکوں کی طرح بڑے بڑے اور پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے یہاں چار نہریں ملاحظہ فرمائیں جو سدرۃ المنتہیٰ کی جڑ سے نکلتی تھیں۔ ان میں سے دو تو ظاہر تھیں اور دو خفیہ۔ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے دریافت فرمایا: اے جبرائیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ عرض کیا: خفیہ نہریں تو جنت کی ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔ (7)

مقام مستوى

جب نبی کریم ﷺ سدرۃ المنتہیٰ سے آگے بڑھے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام وہیں ٹھہر گئے اور آگے جانے سے معذرت خواہ ہوئے۔ پھر آپ ﷺ آگے بڑھے اور بلندی کی طرف سفر فرماتے ہوئے ایک مقام پر تشریف لائے جسے مستوی کہا جاتا ہے۔ یہاں آپ ﷺ نے قلموں کی چرچراہٹ سماعت فرمائی۔ یہ وہ قلم تھے جن سے فرشتے روزانہ کے احکام الہٰیہ لکھتے ہیں اور لوح محفوظ سے ایک سال کے واقعات الگ الگ صحیفوں میں نقل کرتے ہیں اور پھر یہ صحیفے شعبان کی پندرھویں شب متعلقہ حکام فرشتوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔

عرش سے بھی اوپر

پھر آگے بڑھے تو عرش آیا، آپ ﷺ اس سے بھی اوپر تشریف لے گئے اور پھر وہاں پہنچے جہاں خود ” کہاں “ اور ”کب“ بھی ختم ہو چکے تھے۔ کیونکہ یہ الفاظ جگہ اور زمانے کے لئے بولے جاتے ہیں اور جہاں ہمارے نبی کریم ﷺ رونق افروز ہوئے وہاں جگہ تھی نہ زمانہ۔ اس وجہ سے اسے لا مکاں کہا جاتا ہے۔

یہاں اللّٰہ پاک نے نبی کریم ﷺ کو وہ قرب خاص عطا فرمایا کہ نہ کسی کو ملا نہ ملے۔ حدیث شریف میں اس کے بیان کے لئے قَابَ قَوْسَین کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ (8) جنہیں اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب انتہائی قرب اور نزدیکی بتانا مقصود ہوتا ہے۔

دیدار الہٰی اور ہم کلامی کا شرف

نبی کریم ﷺ نے بیداری کی حالت میں سر کی آنکھوں سے اللّٰہ پاک کا دیدار کیا کہ پردہ تھا نہ کوئی حجاب، زمانہ تھا نہ کوئی مکان، فرشتہ تھا نہ کوئی انسان، اور بے واسطہ کلام کا شرف بھی حاصل کیا۔ یہ اللہ پاک کی قدرت ہے کہ اس نے رات کے مختصر سے حصے میں نبی کریم ﷺ کو بیت المقدس اور پھر ساتوں آسمانوں نیز عرش و کرسی سے بھی اُوپر لا مکاں کی سیر کرائی۔

بعض نادان جو ہر بات کو عقل کے ترازو پر تولنے کے عادی ہوتے ہیں ایسے معاملات میں بھی اپنی ناقص عقل کو دخل دیتے ہیں۔ جب کچھ بن نہیں پڑتا تو من گھڑت اور باطل تاویلوں اور حیلوں بہانوں سے خالق کائنات اللہ پاک کی قدرت کے ہی انکاری ہو جاتے ہیں۔ (معاذ الله) یاد رکھئے! اللہ پاک قادرِ مطلق ہے۔ یہ زمین و آسمان، یہ پہاڑ و سمندر، یہ چاند و سورج، یہ فاصلے اور یہ سفر کی منزلیں سب کچھ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے۔

وہ جس کے لئے چاہے فاصلے سمیٹ دے اور جس کے لئے چاہے بڑھا دے۔ عقلیں اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں نیز اس نے اپنی قدرت کاملہ سے اپنے پیارے انبیا و رُسُل عليهم الصلوة و السلام کو ایسے بہت سے امور عطا فرمائے ہیں جو عادتاً نا ممکن و محال ہوتے ہیں۔ ایسے امور کو معجزے کہا جاتا ہے۔

شب معراج کے نوافل

شب معراج یعنی رجب کی 27 ویں شب بارہ رکعت نوافل اس طرح ادا کریں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی سی ایک سورت اور ہر دو رکعت پر التحیات پڑھیں اور 12 پوری ہونے پر سلام پھیر دیں۔ اس کے بعد 100 بار یہ پڑھیں:

سبحانَ اللهِ والحمدُ للهِ ولا إلهَ إلا اللهُ واللهُ أكبر

100 بار استغفار اور 100 بار درود شریف پڑھیں اور اپنی دنیا و آخرت سے متعلق جس چیز کی چاہے دعا مانگیں۔ صبح کو روزہ رکھیں تو اللہ پاک اس کی سب دعائیں قبول فرمائے سوائے اس دعا کے جو گناہ کے لئے ہو۔ (9)

شب معراج کی حقیقت

سفر معراج میں نبی کریم ﷺ کی عظمت و شان کا اظہار ہے۔ جس کا تقاضا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے ہماری محبت کا تعلق مضبوط ہونا چاہیے۔ وہ پیارے نبی کہ جنہیں ہمارے درمیان بھیج کر اللہ پاک نے ہم پر احسان فرمایا ہے :

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا

ترجمہ : بیشک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں ایک رسول مَبعوث فرمایا۔ (10)

اللّٰہ پاک کے سب سے بڑے احسان یعنی نبی کریم ﷺ سے محبت، ان کے لیے جان و مال کی قربانی کا جذبہ، ان کی تعظیم و تکریم ہمارے دلوں میں اپنی جان اور اولاد، بلکہ پوری کائنات سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو بھی نبی کریم ﷺ سے دل و جان سے بڑھ کر محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

5/5 - (1 vote)

حوالہ جات

حوالہ جات
1,
9
شعب الایمان، حدیث: 3812
2 بنی اسرائیل،1
3 صحیح بخاری، 109
4 جامع ترمذی، 152
5 سنن نسائی، 221
6 صحیح بخاری،109
7 صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2887
8 صحیح بخاری، حدیث نمبر:7517
10 آل عمران، آیت:164

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں