سورہ فاتحہ کی فضیلت اور ہر بیماری سے شفا

سورہ فاتحہ کی فضیلت

سورہ فاتحہ قرآن پاک کی پہلی اور نہایت ہی بابرکت سورۃ ہے۔ اس کی سات آیات اور مختلف نام ہیں اور اسے نماز کی ہر رکعت میں دہرایا جاتا ہے۔ سورہ فاتحہ کی فضیلت کے بارے میں خود اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ہے:

واٹس ایپ گروپ (ابھی جوائن کریں) Join Now
یوٹیوب چینل (ابھی سبکرائب کریں) Subscribe

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ

ترجمہ: اور بےشک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن (1)

اس وجہ سے اس سورۃ کو السبع المثانی اور القرآن العظیم بھی کہا جاتا ہے۔

سورہ فاتحہ کی فضیلت پر احادیث

حضرت ابو زید رضی اللّہ عنہ فرماتے ہیں، ایک مرتبہ رات کا وقت تھا، میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کی ایک گلی سے گزر رہا تھا۔ اچانک ایک گھر سے آواز آئی، ایک صحابی رضی اللہ عنہ تہجد کی نماز میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کر رہے تھے۔ اسے سُن کر نبی کریم ﷺ ٹھہر گئے اور سورہ فاتحہ کی تلاوت سننے لگے۔ جب صحابی رسول نے سورہ فاتحہ مکمل پڑھ لی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : قرآن مجید میں اس جیسی کوئی سُورت نہیں (2)

ہر بیماری سے شفا

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سورہ فاتحہ ہر مرض کی دوا ہے۔ اس سورت کا ایک نام شافیہ “ اور ایک نام ” سورۃ الشفاء “ ہے۔ اس لئے کہ یہ سورۃ ہر مرض کے لئے شفا ہے۔ (3)

ایک اور حدیث پاک میں بھی اسی طرح کا مصمون ملتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سورۂ فاتحہ میں ہر بیماری سے شفا ہے۔ (4)

دعا قبول ہونے کا نسخہ

سورہ فاتحہ کو اگر 100 مرتبہ پڑھ کر جو دعا مانگی جائے اس کو اللہ پاک قبول فرماتا ہے۔ (5) سات دنوں تک روزانہ گیارہ ہزار مرتبہ سورہ فاتحہ کا صرف اتنا حصہ پڑھئے

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

اول آخر تین تین بار درود شریف بھی پڑھیے۔ بیماریوں اور بلاؤں کو دور کرنے کے لئے بہت ہی مجرب عمل ہے۔ (6)

سورہ فاتحہ کے فضائل جان کر آپ کو اس کی افضلیت کا خوب اندازہ ہو گیا ہو گا۔ اسکے ترجمہ کو پڑھیں اور یاد کر لیں۔ جب بھی نماز ادا کریں تو اس کے معانی پر لازمی غور کیا کریں۔ آپ کو اس کا روحانی طور پر بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔ اللّہ پاک ہمیں سورہ فاتحہ کی فضائل و برکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

5/5 - (1 vote)

حوالہ جات

حوالہ جات
1 الحجر : 87
2 معجم اوسط، حدیث: 2866
3 سنن دارمی، حدیث: 3370
4 مشکوٰۃ المصابیح، حدیث 2170
5 جنتی زیور، ص 587
6 جنتی زیور ، ص 588

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں