سلطنت عثمانیہ کی مختصر تاریخ

سلطنت عثمانیہ

اسلام کی تاریخ بہت ہی دلخراش واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ سلطنت عثمانیہ کی بنیاد سے پہلے پیش آیا۔  اھلِ عرب عموماً ایک جملہ کہتے ہیں:۔

الاسلام کالشمس ان غرب فی بلد طلع فی بلد آخر

اسلام سورج کی طرح ہے ایک ملک میں غروب ہوتا ہے تو دوسرے میں طلوع ہوجاتا ھے۔

1258 سن عیسوی میں مسلمانوں پر قیامتِ صغریٰ قائم ہوگئی تھی۔ عروس البلاد (1)تمام ملکوں کی دلہن نام سے مشہور شہر یعنی بغداد پر منگولوں نے ایسی قیامت ڈھائی کہ تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی۔ مبصرین و ناقدین نے سمجھا کہ اب اسلام مٹ گیا۔ کیونکہ اسلام کے علوم و فنون کے مرکز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا گیا۔ علماء و فقہاء کے شہر کو اجاڑ کر رکھ دیا گیا۔ محدثین و متکلمین کی آماجگاہ کا ستنیاس مار دیا گیا۔ اولیاء و صلحاء کے شہر کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔

سلطنت عثمانیہ

مگر عین 1258ء سن عیسوی میں یعنی اسی تباہی و بربادی کے سال حکیم مطلق جنابِ رب العزت نے امت مرحومہ کو ابو السلاطین حضرت غازی عثمان رحمۃ اللہ علیہ کی صورت میں ایک سورج عطاء فرمایا۔ جس نے تاریخ کی عظیم سلطنت اور مسلمانوں کی سب سے طویل المدت بادشاہت قائم کی تھی۔ ایسی سلطنت جو تین بر اعظموں پر حاکم تھی۔

ایسی سلطنت جو خالص اہل سنت ماتریدی صوفی عقائد کی نشر و اشاعت کرتی تھی۔ اس سلطنت کی بنیاد میں صوفیاء و علماء کا اہم ترین کردار تھا۔ اس سلطنت کے سلاطین میں سلطان محمد فاتح، سلطان سلیمان عالیشان ،سلطان سلیم یاوز ، مراد خان اور سلطان عبد الحمید خان جیسے عظیم نیک سلاطین شامل تھے۔

1258ء میں اللہ رب العزت نے عربوں کو انکی آسائشوں اور خدمتِ اسلام سے دوری کی وجہ سے رسوا کر کے ترکوں کو امتِ مرحومہ کی خدمت کا موقع دیا اور پھر ترکوں نے تقریبا سات سو سال امت کی رہنمائی بھی کی اور خدمت بھی کی ہے۔

غفلت کا ثمرہ

اگر کوئی قوم اپنی معاشی ترقی و مضبوط عسکری معاملات کی وجہ سے غرور و غفلت میں ہے تو گزری تاریخ اس کو سبق سکھا رہی ہے کہ اللہ رب العزت تم سے سب چھین کر کسی اور کو اقوامِ عالم کا سردار بنا دے گا۔

فروغِ شمعِ تو باقی رہے گا صبحِ محشر تک
مگر یہ بزم پرانوں سے خالی ہوتی جاتی ہے

فروغ شمع یعنی اسلام تو بڑھتا جائے گا۔ مگر خود دیکھ لیں کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا اس فروغ میں کتنا حصہ ہے؟ 1258ء ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ تم تباہ کر بھی دیئے جاؤ تو قادر مطلق کہیں اور سے اپنے دین کے محافظ پیدا کر دے گا۔

جہاں میں اھلِ ایمان صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے

کاش ہم طلوع ہونے والوں میں سے ہوں!

حوالہ جات[+]

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں