زکوٰۃ سے متعلق کچھ غلط فہمیاں

زکوٰۃ کے مسائل

بعض لوگ فقیروں مسکینوں مسجدوں مدرسوں کو یونہی دیتے رہتے ہیں اور با قاعدہ زکوٰۃ نہیں نکالتے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ زکوٰۃ نکالئے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم ویسے ہی راہ خدا میں کافی خرچ کرتے رہتے ہیں۔ یہ ان کی سخت غلط فہمی ہے۔ آپ ہزار راہِ خدا میں خرچ کر دیں لیکن جب تک حساب کر کے نیت زکوٰۃ سے زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے آپ کے یہ اخراجات جو راہ خدا ہی میں آپ نے کئے ہیں یہ زکوٰۃ نہ نکالنے کے عذاب و وبال سے آپ کو بچا نہیں سکیں گے۔

حدیث شریف میں ہے کہ جس کو اللہ پاک مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی شکل میں کر دیا جاۓ گا۔ اس کے سر پر دو چوٹیاں ہوں گی وہ سانپ انکے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔ پھر اس کی بانچھیں پکڑیگا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں میں تیراخزانہ ہوں۔ (1)صحیح البخاری،کتاب الزکوٰۃ ، باب اثم مانع الزکوٰۃ،الحدیث۱۴۰۳،ج۱،ص۴۷۴

زکوٰۃ کے مسائل

خلاصہ یہ کہ راہ خدا میں خرچ کرنے کے جتنے طریقے ہیں ان میں سب سے اول زکوٰۃ ہے۔ نیاز، نذر اور فاتحائیں وغیرہ بھی اسی مال سے کی جائیں جس کی زکوٰۃ ادا کی گئی ہو۔ ورنہ وہ قابل قبول نہیں۔ اپنی زکوٰۃ خود کھاتے رہنا اور راہ خدا میں خرچ کرنے والے بننا بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ زکوٰۃ کے مسائل علماء سے معلوم کئے جائیں اور با قاعدہ زکوٰۃ نکالی جائے۔ تاکہ نیاز و نذور اور صدقہ و خیرات بھی قبول ہو سکیں۔ (2)غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح، صفحہ 73-74

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں