رمضان مبارک کی بہاریں ہی بہاریں اتنے زیادہ فضائل جنکا شمار نہیں

رمضان مبارک

رمضان مبارک وہ مکرم مہینہ جسکی ہر ساعت رحمت بھری ہے۔اس مہینہ میں میں اَجر و ثواب بہت ہی بڑھ جاتاہے۔نفل کا ثواب فَرض کے برابر اور فَرْض کا ثواب ستّر گُنا کردیا جاتا ہے ۔بلکہ اِس مہینے میں تو روزہ دار کاسونا بھی عبادت میں شُمار کیا جاتاہے۔یہ وہ با برکت مہینہ جس میں ایک رات (1)ایسی بھی ہے جو ہزارمہینوں سے بہتر ہے، اِس (2)ماہِ مُبارَک کے روزے اللہ پاک نے فرض کیے اور اِس کی رات میں قِیام تطَوّع(3)یعنی سنّت ہے، (4)اَلتَّرغیب والتَّرہیب ج۲ص۵۵حدیث۶ اِس ماہِ مُبارَک کی ایک خُصُوصِیَّت یہ بھی ہے کہ اللہ پاک نے اِس میں قُراٰنِ پاک نازِل فرمایا ہے۔(5) پ ۲ البقرہ۱۸۵

اور قُرآنِ کریم میں صِرف رمضان مبارک ہی کانام لیا گیا اور اسی کے فضائل بیان ہوئے ۔ کسی دُوسرے مہینے کا نہ صَراحَتاً نام ہے نہ ایسے فضائل۔ اِسلام میں ہرنام کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے اور نام کام کے مُطابِق رکھا جاتا ہے۔یہ مہینہ دِل کے گَر د وغُبار دھودیتا ہے اور اس سے اَعمال کی کَھیتی ہَری بَھری رہتی ہے۔ اِس میں مُسلمان بُھوک پیاس برداشت کرتے ہیں اور یہ گناہوں کو جَلا ڈالتا ہے،اِس لئے اِسے رَمَضَان کہاجاتا ہے ۔ ”

صبر کا مہینہ

یہ مہینہ صَبْر کا ہے اور صَبْرکا ثواب جَنّت ہے اور یہ مہینہ مُؤَاسات(6)یعنی غمخواری اور بَھلائی کاہے اور اس مہینے میں مومِن کا رِزْق بڑھایا جاتا ہے۔جو اِس میں روزہ دار کو اِفطا رکرائے اُس کے گُناہوں کے لئے مَغفِرت ہے اور اُس کی گردن آگ سے آزاد کردی جائے گی۔اور اِس اِفطار کرانے والے کو وَیسا ہی ثواب مِلے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا۔بغیر اِس کے کہ اُس کے اَجْرمیں کچھ کمی ہو۔” اللہ تعالیٰ یہ ثواب (7)تَواُس (8)شَخص کو دے گا جو ایک گُھونٹ دُودھ یا ایک کَھجوریا ایک گُھونٹ پانی سے روزہ اِفطار کروائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کِھلایا، اُس کو اللہ تعالیٰ حضور نبی کریم ﷺ کے حَوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔یہاں تک کہ جَنّت میں داخِل ہوجائے۔

یہ وہ مہینہ ہے کہ اِس کا اوَّل (9)یعنی اِبتِدائی دس دن رَحمت ہے اور اِس کا اَوسَط (10)یعنی درمِیانی دس دن مَغفِرت ہے اور آخِر (11) یعنی آخِری دس دن جہنَّم سے آزادی ہے۔جو اپنے غُلام پر اِس مہینے میں تَخفِیف کرے (12)یعنی کام کم لے اللہ تعالیٰ اُسے بخش دے گااور جہنَّم سے آزاد فرمادے گا۔ (13)صحیح ابنِ خُزَیمہ ج۳ ص۱۸۸۷ ہر مہینے میں خاص تاریخیں اور تاریخوں میں بھی خاص وَقْت میں عبادت ہوتی ہے۔ مگر ماہِ رمضان مبارک میں ہر دن اور ہَر َوقت عبادت ہوتی ہے ۔ روزہ عِبادت، اِفطار عِبادت، اِفطارکے بعد تراویح کا اِنتِظار عِبادت، تراویح پڑھ کر سَحَری کے اِنتِظار میں سونا عِبادت ،پھر سَحَری کھانا بھی عبادت اَلْغَرَض ہر آن میں خدا پاک کی شان نظر آتی ہے۔

رمضان مبارک کی خصوصیات

رمضان مبارک ایک بَھٹّی کی مانند ہے جیسے کہ بَھٹّی گند ے لوہے کو صاف اور صاف لَوہے کو مشین کا پُرزہ بنا کر قیمتی کردیتی ہے اور سونے کو زیور بنا کر اِستِعمال کے لائق کردیتی ہے۔ایسے ہی ماہِ رمضان مبارک گنہگاروں کو پاک کرتااور نیک لوگوں کے دَرَجے بڑھا تا ہے۔ اِس مہینے میں شبِ قَدْر ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اسی مہینے کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس ماہ میں اِبلیس قید کرلیا جاتا ہے اور دَوزخ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں جنت آراستہ کی جاتی ہے اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ اِسی لئے اِن دنوں میں نیکیوں کی زیادَتی اورگُناہوں کی کمی ہوتی ہے جو لوگ گُناہ کرتے بھی ہیں وہ نفسِ اَمّارہ یا اپنے ساتھی شیطان (14)قَرینکے بَہْکانے سے کرتے ہیں۔

ماہ رمضان کے کھانے پینے کا حِساب نہیں۔ اس ماہ میں خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہے۔” (15)الجامع الصغیرص۱۶۲حدیث۲۷۱۶ اور یہ خَرچ کرنا جِہاد میں خَرچ کرنے کا دَرَجہ رکھتا ہے۔ ” (16)تَنْبِیہُ الْغافِلین ص۱۷۶

بھلائی ہی بھلائی

پُورا رمضان خَیر ہی خَیر ہے دِن کا روزہ ہویا رات کا قِیام۔ قِیامت میں رمضان و قرآن روزہ دار کی شَفاعت کریں گے کہ رمضان تَو کہے گا ، مولیٰ پاک ! میں نے اِسے دن میں کھانے پینے سے روکا تھا اور قُرآن عَرض کریگا کہ یا ربّ! عزوجل میں نے اِسے رات میں تِلاوت و تراویح کے ذَرِیعے سونے سے روکا ۔ رمضان مبارک میں اِفطار اور سَحَری کے وقت دُعاء قَبول ہوتی ہے ۔ یعنی اِفطار کرتے وَقت اور سَحَری کھا کر ۔یہ مرتبہ کسی اور مہینے کو حاصِل نہیں۔

لفظ رمضان پر اگر آپ غور کریں تو اس میں پانچ حُروف ہیں ر،م،ض،ا،ن۔رسے مُراد”رَحمتِ الہٰی پاک ، مِیم سے مُراد مَحبّتِ اِلٰہی پاک ،ض سے مُراد ضَمانِ الہٰی پاک ، اَلِف سے امانِ اِلہٰی پاک ،ن سے نُورِ الٰہی عَزَّوَجَل۔اور رمضان مبارک میں پانچ عِبادات خَصُوصی ہوتی ہیں۔روزہ، تَراویح ، تِلاوتِ قُرآن، اِعتِکا ف ، شبِ قَدْر میں عبادات ۔تَو جو کوئی صِدْقِ دِل سے یہ پانچ عِبادات کرے وہ اُن پانچ اِنعاموں کا مُستَحق ہے۔ (17)تفسیر نعیمی ج۲ ص۲۰۸ جب رمضان مبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ عز وَجَلَّ انکی طرف رَحمت کی نَظَر فرماتا ہے اور جس کی طرف اللہ پاک نَظَرِ رَحمت فرمائے اُسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔

سونے کے دروازے والا محل

”جب ماہِ رَمَضَان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں اور جنّت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آخِر رات تک بندنہیں ہوتے۔ جو کوئی بندہ اس ماہِ مُبارَک کی کسی بھی رات میں نَماز پڑھتا ہے تَو اللہ پاک اُس کے ہر سَجْدہ کے بدلے اُس کے لئے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے اور اُس کے لئے جنّت میں سُرخ یا قُوت کا گھر بناتا ہے۔جس میں ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے۔اور ہر دروازے کے پَٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یا قُوتِ سُرخ جَڑے ہوں گے۔

اور جو کوئی ماہِ رَمَضَان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تَواللہ پاک مہینے کے آخِر دِن تک اُس کے گُناہ مُعاف فرمادیتا ہے،اور اُس کیلئے صبح سے شام تک ستّر ہزار فِرِشتے دُعائے مَغفِرت کرتے رہتے ہیں۔ رات اور دِن میں جب بھی وہ سَجدہ کرتاہے اُس کے ہر سَجدہ کے یعنی بدلے اُسے جَنّت میں ایک ایسا دَرَخْت عطا کیا جاتاہے کہ اُس کے سائے میں گھوڑے سُوار پانچ سو برس تک چلتا رہے۔” (18)شُعَبُ الایمان ج۳ ص۳۱۴حدیث۳۶۳۵

صغیرہ گناہوں کا کفارہ

ایک اور جگہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا،”پانچوں نَمازیں ،اور جُمُعہ اگلے جُمُعہ تک اور ماہِ رمضان اگلے ماہِ رمضان تک گناہوں کا کَفّارہ ہے جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔” (19)صحیح مسِلم ص ۱۴۴حدیث۲۳۳

ہزار گنا ثواب

”ماہِ رمضان میں ایک دن کا روزہ رکھنا ایک ہزار دن کے روزوں سے افضل ہے اور ماہ ِرمضان میں ایک مرتبہ تسبیح کرنا(20)یعنی سبحٰن اللہ کہنا اس ماہ کے علاوہ ایک ہزار مرتبہ تسبیح کرنے(21) یعنی سبحٰنَ اللہکہنے سے افضل ہے اور ماہِ رمضان میں ایک رَکْعَت پڑھنا غیر رمضان کی ایک ہزار رَکْعَتو ں سے افضل ہے۔ (22)اَلدُّرُّ المَنْثُورج۱ص۴۵۴

جمعہ کی ہر ہر گھڑی میں د س لاکھ کی مغفرت

”اللہ پاک ماہِ رمضان میں روزانہ اِفطار کے وَقت دس لاکھ ایسے گُنہگاروں کو جَہنّم سے آزاد فرماتا ہے جن پر گُناہوں کی وجہ سے جہنّم واجِب ہوچُکا تھا،جبکہ شبِ جُمُعہ اور روزِ جُمُعہ(23)یعنی جُمعرات کو غُروبِ آفتاب سے لے کر جُمُعہ کو غُروبِ آفتاب تک کی ہر ہر گھڑی میں ایسے دس دس لاکھ گنہگاروں کوجہنَّم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حقدار قرار دئیے جاچُکے ہوتے ہیں۔ (24)کَنْزُ الْعُمّال ج ۸ص۲۲۳حدیث۲۳۷۱۶ اور جب اُنتیسویں رات ہوتی ہے تَو مہینے بھر میں جتنے آزاد کیے اُن کے مَجموعہ کے برابر اُس ایک رات میں آزاد فرماتا ہے ۔ (25)کَنْزُ الْعُمّال، ج ۸،ص۲۱۹حدیث۲۳۷۰۲

لاکھ رمضان کا ثواب

” جس نے مکّہ مکرّمہ میں ماہِ رمضان پایا اور رَوزہ رکھا اور رات میں جتنا مُیَسَّر آیا قِیام کیا تَو اللہ پاک اُس کے لئے اور جگہ کے ایک لاکھ رمضان کا ثواب لکھے گا اور ہردن ایک غُلام آزاد کرنے کا ثواب اور ہر رات ایک غُلام آزادکرنے کا ثواب اور ہر روز جِہاد میں گھوڑے پر سُوار کردینے کا ثواب اور ہر دن میں نیکی اور ہر رات میں نیکی لکھے گا۔” (26)ابنِ ماجہ ج۳ص۵۲۳حدیث۳۱۱۷ ماہِ رمضان کے فضائل سے کُتُبِ اَحادیث مالا مال ہیں۔ رمضان مبارک میں اِس قَدَ ربَرَکتیں اوررَحمتیں ہیں کہ ہمارے پیارے پیارے آقا ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایٍا،”اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو میری اُمّت تمنَّا کرتی کہ کاش!پورا سال رمضان ہی ہو۔ ” (27)صحیح ابنِ خُزَیمہ ج۳ص۱۹۰حدیث۱۸۸۶

آپ نے دیکھا کہ خُدائے پاک عزوجل ماہِ رمضان کے قَدْر دانوں پر کِس دَرَجہ مہربان ہے۔اور ہم کس قدر ناقدرے ہیں اور کس قدر غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ہمارا رب ہمیں اس ماہ مبارک کی برکت سے کتنا نواز رہا ہے اور ہم اس قیمتی ماہ اور بابرکت وقت کو کس قدر غفلت و نادانی میں گزار دیتے ہیں۔اول تو روزہ رکھنا کجا اور اگر رکھ بھی لیں تو اس کو فلمیں ، ڈرامے اور آن لائن ویڈیو گیمز کھیل کر بدنگاہیاں کر کر کے ضائع کر دیتے ہیں۔ اور ہاتھ آنے والے ثواب کو کھو دیتے ہیں۔ پیش کردہ روایتوں میں ماہِ رمضان کی کِس قَدَر عظیم رحمتوں اور بَرَکتوں کا ذِکْر کیاگیا ہے۔

ماہِ رَمَضا ن کا قَدْردان روزے رکھ کراللہ پاک کی رِضا حاصِل کرکے جَنّتوں کی اَبَدی اور سَرمَدی نِعمتیں حاصِل کرتا ہے۔ اور ناقدرے اس قیمتی وقت کو غفلت میں گزار دیتے ہیں۔ لہٰذا چاہئے کہ رمضان مبارک میں نیک کام کئے جائیں اور گُناہوں سے بچا جائے۔

تین کے اندر تین پوشیدہ

ہمیں کوئی نیکی چھوڑنی نہیں چاہئے نہ جانے اللہ پاک کو کونسی نیکی پسند آجائے اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی نہیں کرنا چاہئے کہ نہ جانے کس گناہ پراللہ تعالیٰ ناراض ہوجائے اور اُس کا درد ناک عذاب آکر گھیرلے۔ یاد رکھیں ”اللہ پاک نے تین چیزوں کو تین چیزوں میں مَخْفی(28)یعنی پوشیدہ رکھا ہے،

(۱)اپنی رِضا کو اپنی اِطاعت میں اور

(۲)اپنی ناراضگی کو اپنی نافرمانی میں اور

(۳)اپنے اولیاء کواپنے بَندوں میں۔

لہٰذا ہر طاعَت اور ہر نیکی کو عمل میں لانا چاہئے کہ معلوم نہیں کس نیکی پر وہ راضی ہوجائے اور ہر بدی سے بچنا چاہئے کیونکہ معلوم نہیں کس بدی پر وہ ناراض ہوجائے ۔خواہ وہ بدی کتنی ہی (29)چھوٹی ہو۔ ممِکن ہے کہ ِاس بُرائی میں ہی حق تعالیٰ کی ناراضگی مَخفی (30)یعنی چْھپی ہوئی ہو ۔تو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی بچنا چاہئے۔ (31)اَخلاق ُ الصّٰلِحِین ص۵۶

اللہ پاک کی رحمت

اگر اللہ پاک کی رَحمت کی بات کریں تو!جب اللہ پاک بخشنے پر آتا ہے تو بظاہِر نیکی کتنی ہی چھوٹی ہو وہ اِسی کے سبب کرم فرمادیتا ہے۔ مَثَلاً ایک عورت کو صِرْف اِس لئے بخش دیا گیا کہ اُس نے ایک پیاسے کتّے کو پانی پلایا تھا۔ (32)صحیح بخاری ج۲ ص ۰۹ ۴ حدیث۳۳۲۱ ایک شخص نے راستے میں سے ایک دَرَخْت کو اِس لئے ہٹا دیا تاکہ لوگوں کو اِس سے اِیذا نہ پہنچے ۔اللہ تعالیٰ پاک نے خوش ہوکر اُس کی مغفِرت فرمادی۔ (33)صحیح مسلم ص ۱۴۱۰ حدیث۱۹۱۴ قرض کی وُصُولی میں آسانی )) کرنے والے ایک شخص کی نَجات ہوجانے کا واقِعہ بھی آیا ہے۔ (34)صحیح بخاری ج۲ص۱۲حدیث۲۰۷۸ اللہ پاک کی رَحمت کے واقِعات جَمْع کرنے جائیں تو اتنے ہیں کہ ہم جَمْع ہی نہ کرسکیں۔

عِصیاں سے کبھی ہم نے کَنارہ نہ کیا پَر تُونے دِل آزُردہ ہمارا نہ کِیا
ہم نے تَو جہنَّم کی بَہُت کی تجویز لیکن تِری رَحمت نے گوارا نہ کِیا

وہ جب ناراض ہُوا تو اُس نے نیک اور پرہیز گار شخص کی بھی گرِفت فرمائی اور وہ عذابِ قَبرمیں گھِر گیا ۔اور بخشنے پر آئے تو کیسے کیسے گناہ گاروں کی بخشش فرما دیتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے حالِ زار پر رَحم فرمائے۔اور ہماری بے حساب مغفِرت فرمائے۔اور اللہ پاک سے یہ بھی دعا ہے کہ وہ ہمیں اس مبارک ماہ کی قدر کرنے کی توفیق عطا کرے۔ اور اس قیمتی وقت کو نیکیوں میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں