اسلام میں رزق حلال کی اہمیت و افادیت

رزق حلال کی اہمیت

حلال روزی کمانے ، کھانے ، حرام اور شک و شبہ والی چیزوں سے بچنے کے معاملے میں اللہ پاک کے نیک بندوں کا کردار تعریف کے قابل ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ حضرات رزق حلال کی تلاش کے لئے بسا اوقات دور دراز کا سفربھی کرتے تھے۔ نیز پرائی چیز کو مال غنیمت سمجھ کر مالِ مفت دل بے رحم کی طرح ہڑپ کرنے والے نہ تھے بلکہ بہت ہی محتاط طبیعت والے تھے۔ چنانچہ

رزق حلال کی تلاش میں سفر

حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں ایک مرتبہ رِزقِ حلال کمانے کے لئے”طرسوس“ نامی شہر کی طرف روانہ ہوا۔ جب میں وہاں پہنچا تو ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے کہنے لگا : مجھے اپنے انگوروں کے باغ کی دیکھ بھال کرنے کے لئے ایک باغ کی حفاظت کرنے والےکی ضرورت ہے۔ کیا تم مزدوری پر میرے باغ کی نگرانی کرنے کے لئے تیار ہو؟ میں نے کہا : جی ہاں ! چنانچہ میں اس شخص کے ساتھ چلا گیا اور خوب محنت و لگن سے اس کے باغ میں کام کرتا رہا۔

ایک دن باغ کا مالک اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ باغ میں آیا اور مجھے بلا کر کہا : ہمارے لئے بہترین قسم کے میٹھے انگور توڑ کر لاؤ۔ یہ سن کر میں نے کافی مقدار میں انگور لا کر اس کے سامنے رکھ دئیے۔ مالک نے جب انگور کا دانہ کھایا تو وہ کھٹا نکلا۔ اوراس نے مجھ سے کہا : اے باغ کی دیکھ بھال کرنے والے! تجھ پر افسوس ہے۔ تواتنے دنوں سے اِس باغ میں کام کر رہا ہے اور ابھی تک تجھے کھٹے اور میٹھے انگوروں کی پہچان نہ ہو سکی حالانکہ تو یہاں سےدن رات خوب انگور کھاتا ہو گا۔

میں نے باغ کے مالک سے کہا : اللہ پاک کی قسم! میں نے آج تک تمھارے اس باغ سے انگور کا ایک دانہ بھی نہیں کھایا کیونکہ میں تو صرف باغ کی دیکھ بھال کرنے کے لئے آیا ہوں۔ جبھی تو مجھے کھٹے اورمیٹھے انگوروں کی پہچان نہیں ہو سکی۔ یہ سن کر باغ کا مالک اپنے دوستوں سے کہنے لگا : کیا اس سے بھی زیادہ کوئی عجیب بات ہو سکتی ہے کہ ایک شخص کافی عرصہ تک اتنی ایمانداری سے باغ میں رہے کہ وہاں سے ایک دانہ بھی نہ کھائے؟ یہ شخص تو ابراہیم بن ادہم کی طر ح پرہیزگار معلوم ہوتا ہے۔ (1) اس باغ والے کو معلوم نہ تھا کہ یہی حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللّٰہ علیہ ہیں حضرت ابراہیم بن ادہم فرماتے ہیں : پھرمیں اپنے کام میں لگ گیا اور باغ کا مالک وہاں سے رخصت ہو گیا۔(2)عیون الحکایات ، حصہ اول ، ص۲۲۳-۲۲۴ ملخصاً

رزق حلال اور ہمارا حال

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !بیان کردہ حکایت کمال انتہائی کمال ہے۔ ہمیں تو بس موقع ملنے کی دیر ہوتی ہے بندہ ادھر ہوا نہیں کہ کسی کے مال پر اندھوں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں۔ استغفراللہ۔ جبکہ آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ کی امانت داری اور پرہیزگاری کا یہ عالم تھا۔ باوجود یہ کہ انگوروں کا پورا باغ دیکھ بھال کے لحاظ سے آپ کے قبضہ و اختیارمیں تھا۔ آپ چاہتے تو باغ میں لگے انگوروں سے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھاتے مگر آپ ان لوگوں ميں سے نہ تھے جنہیں حرام و حلال کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ جو امانتوں میں دھوکہ کرتے ہیں اورجن کی نظریں دوسروں کے مال و دولت پر ہی لگی رہتی ہیں۔ بلکہ آپ تو حلال کھانے کی اہمیت و فضیلت سے بخوبی واقف تھے۔

یاد رکھئے ! دنیا میں جس کے پاس جتنا زیادہ مال ہو گا آخرت میں اسے اتنا ہی زیادہ حساب بھی دینا ہوگا۔ لہٰذا ہمیں حرام چیزوں سے بچتے ہوئے ہمیشہ حلال و پاکیزہ روزی ہی کی کوشش کرنی چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلانی چاہیے تا کہ ہمیں بھی حلال کھانے کی فضیلت حاصل ہو۔

بعض بزرگان دین فرماتے ہیں : مسلمان جب حلال کھانے کا پہلا لقمہ کھاتا ہے تو اس کے پہلے کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور جو شخص رِزق حلال کی طلب میں ذلت کی جگہ کھڑا ہوتا ہے۔ تو اس کے گناہ درخت کے پتوں کی طرح جھڑتے ہیں۔ (3) احیاء العلومِ ، ۲ / ۱۱۶

اسلام میں حلال و پاکیزہ کھانے کی اہمیت

پیارے اسلامی بھائیو ! اسلام میں حلال و پاکیزہ کھانے کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ اِس بات سے لگائیے کہ خود اللہ پاک نے اپنے پاکیزہ کلام میں حلال و پاکیزہ روزی کھانے کے بارے میں واضح احکام ارشاد فرمائے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے :

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ(۸۸)

ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں اللہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔ (4) پ۷ ، المائدۃ : ۸۸

پارہ2 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸)

ترجمہ : اے لوگو ! جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (5) پ۲ ، البقرۃ : ۱۶۸

حلال و طیّب رزق سے کیا مراد ہے؟

حلال و طیب سے مراد وہ چیز ہے جو بذات خود بھی حلال ہے۔ جیسے بکرے کا گوشت ، سبزی ، دال وغیرہ اور ہمیں حاصل بھی جائز ذریعے سے ہو۔ یعنی چوری ، رشوت ، ڈکیتی وغیرہ کے ذریعے حاصل نہ ہو۔ (6) صراط الجنان ، پ۲ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۱۶۸ ، ۱ / ۲۶۸

رزق حلال کھانے کا فائدہ اور نقصان

حضرت یحیی بن معاذ رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں: فرمانبرداری اللہ پاک کے خزانوں میں چھپی ہوئی ہے۔ دعا اس کی چابی ہے اور حلال کھانا اس چابی کے دندانے ہیں۔ اگر چابی میں دندانے نہیں ہوں گے تو دروازہ بھی نہیں کھلے گا اور جب خزانہ نہیں کھلے گا تو اس کے اندر چھپی فرمانبرداری تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟ لہٰذا اپنے لقمے کی حفاظت کرو اور اپنے کھانے کو پاکیزہ بناؤ تا کہ جب تمہیں موت آئے تو برے اعمال کی سیاہی کی جگہ نیک اعمال کا نور تمہارے سامنے ظاہر ہو اور اپنے اعضا کو حرام کھانے کے گناہ سے روکے رکھو تا کہ یہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے لذت پا سکیں۔ اللہ پاک فرماتا ہے :

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ(۲۴)

ترجمہ : گزرے ہوئے دنوں میں جو تم نے آگے بھیجا اس کے بدلے میں خوشگواری کے ساتھ کھاؤ اور پیو۔ (7) پ ۲۹ ، الحاقۃ : ۲۴

اورجو حرام کھانے سے نہ بچے تو لمبے عرصے تک بھوکا رہنے کے بعد تھوہرکا کڑوا اور گرم پھل کھائے گا۔ یہ کیسا برا کھانا ہو گا اور اس کا نقصان کتنا شدید ہو گا کہ یہ دل کے ٹکڑے کردے گا اورجِگرکو چِیر ڈالے گا۔ بدن کو پھاڑ دے گا اور جینا مشکل کردے گا۔ (8) آنسووں کا دریا ، ص۲۸۳

معلوم ہوا ! حرام کھانے کی بڑی نحوستیں اورحلال کھانے میں بڑی برکتیں ہیں۔

  • جومسلمان رِزق حلال کما کر اپنے بیوی بچوں کو حلال کھلاتا ہے وہ پرسکون اور خوشحال زندگی گزارتا ہے
  • حلال کمانے اورکھانے والے کا لوگوں کی نظروں میں ایک خاص مقام بن جاتا ہے
  • حلال کمانے اورکھانے والے کے کاروبار میں برکت ہوتی ہے
  • حلال کمانے اورکھانے والے کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اوراس کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں
  • حلال کمانے اور کھانے کے فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ جی چاہتا ہے کہ بس بیان کرتے اور سنتے چلے جائیں۔

رزق حلال پر احادیث

آئیے ! بطورِ ترغیب 4 احادیث مبارکہ پڑھتے ہیں اور ان پرعمل کی نیت بھی کرتے ہیں :

1۔ ارشاد فرمایا : جس نے چالیس (9) 40 دن تک حلال کھایا ، اللہ پاک اس کے دل کو منور فرما دے گا اور اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری فرما دے گا اور دنیا و آخرت میں اس کی رہنمائی فرمائے گا۔ (10) اتحاف السادۃ ، کتاب الحلال والحرام ، الباب الاول ، فی فضیلۃ الحلال …الخ ، ۶ / ۴۵۰

2۔ ارشاد فرمایا : جس شخص نے حلال مال کمایا پھر اسے خود کھایا یا اس کمائی سے لباس پہنا اور اپنے علاوہ اللہ پاک کی دیگر مخلو ق (11) جیسے اپنے اہل و عیال اور دیگر لوگوں کو کھلا یا اور پہنایا تو اس کا یہ عمل اس کے لئے برکت و پاکیزگی ہے۔ (12) ابن حبان ، کتاب الرضاع ، باب النفقۃ ، ذکر کتبۃ اللہ…الخ ، الجزء۶ ، ۴ / ۲۱۸ ، حدیث : ۴۲۲۲

3. آپ ﷺ ایک روزصحا بہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ اتنے میں ایک نوجوان قریب سے گزرا۔ صحابہ کرام نے ایک طاقتور اور مضبوط جسم والےنوجوان کو دیکھا تو کہا : کاش ! اس کی جوانی اور طاقت اللہ پاک کی راہ میں خرچ ہوتی۔
اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ شخص اپنے چھوٹے بچوں کے لئے رزق کی تلاش میں نکلا ہے تو یہ اللہ پاک ہی  کی راہ میں ہے اور اگر یہ شخص اپنے بوڑھے والدین کے لئے رزق کی تلاش میں نکلا ہے تو بھی یہ اللہ پاک کی راہ میں ہے اور اگر یہ خود کو  (13) لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا حرام کھانےسے بچانے کے لئے رزق کی تلاش میں نکلا ہے تو بھی یہ اللہ پاک کی راہ میں ہے البتہ اگر یہ دکھاوے اورفخرکے لئے نکلا ہے تو یہ شیطان کی راہ میں ہے۔  (14) معجم الاوسط ، ۵  / ۱۳۶ ، حديث :  ۶۸۳

 4۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے آخری نبی ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی :  آپ ﷺ دعا فرمائیے کہ اللہ پاک میری دعا قبول فرمایا کرے۔ تو آقا ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا :

 یَاسَعْد ! اَطِبْ مَطْعَمَکَ تَکُنْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَۃِ 

یعنی اپنے کھانےکو پاکیزہ بناؤ تمہاری دعائیں قبول ہوا کریں گی۔ (15) معجم اوسط ، من اسمہ محمد ، ۵ / ۳۴ ، حدیث : ۶۴۹۵

آخری الفاظ

پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے جانا کہ اللہ پاک نے حلال کھانے میں کیسی کیسی برکتیں رکھی ہیں۔ حلال کھانے کی برکت سے بندے کا دل نور سے معمور ہو جاتا ہے۔ حلال کھانے کی برکت سے زبان سے حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ! کہ اپنے بال بچوں ، بوڑھے والدین کی خاطر رزق کی تلاش میں  نکلنے والا راہ خدا میں ہوتا ہے۔ ذرا غورکیجئے ! حلال کھانے اوركمانے والوں کو کس قدر فضائل و برکات حاصل ہوتے ہیں۔

مگر افسوس !  بعض لوگ نفس و شیطان کے ہاتھوں کھلونا بن کر روزی کے حلال و پاکیزہ اورآسان ذرائع میسر ہونے کے باوجود خواہ مخواہ حرام ذرائع اختیار کر کے ، حرام کھا كر، یا کھلا کر اپنے لئے جہنم میں جانے کا سامان کرتے ہیں۔

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں