حیض کی حالت میں قرآن پڑھنا کیسا؟

حیض کی حالت میں قرآن پڑھنا کیسا؟

جنب یا حیض کی حالت میں قرآن پاک کو چھونے کی اجازت نہیں ہے۔ جس کا ثبوت قرآن اور حدیث دونوں سے ملتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے:

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ(۷۹)

یعنی اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں ۔(1)الواقعة، آیت:79

حدیث شریف میں بھی اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قرآن پاک کو وہی ہاتھ لگائے جو پاک ہو۔“(2) معجم صغیر، باب الیائ، من اسمہ: یحیی، ص ۱۳۹، الجزء الثانی

لهذا حالت حیض، نفاس اور جنب (3)یعنی جس پر غسل فرض ہو کی حالت میں قرآن پاک پڑھنا اور اسے چھونا جائز نہیں ہے۔ ہاں ضرورتاً ہاتھ پر دستانے باندھ کر یا رومال لپیٹ کر چھوا جا سکتا ہے۔

حیض کی حالت میں تسبیح پڑھنا

خواتین ایام حیض میں کسی بھی وقت وضو کر کے دعا اور ذکر کر سکتی ہیں،حتیٰ کہ ماثور دعائیں بھی پڑھ سکتی ہیں اور ہجے کرکہ قرآن پڑھنا یا جس طرح لفظ توڑکر قاعدہ پڑھا جاتا ہے اس طرح پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اس کے لیے اوقات نماز بھی ہونا ضروری نہیں ۔ لہذا حائضہ اور جنبی کو دعائیں پڑھنے اور اللہ پاک کا ذکر کرنے اور اس کی پاکی بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (4)وقار الفتاویٰ

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں