حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

سیدا لشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت 5 شعبان 4ھ؁کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ حضور پرنور سید عالم ﷺ نے آپ کا نام حسین اور شبیر رکھا۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب سبط رسول اللہ اور ریحانۃ الرسول ہے۔ اور آپ کے برادرِ معظم کی طرح آپ کو بھی جنتی جوانوں کا سردار اور اپنافرزند فرمایا۔(1)اسد الغابۃ، باب الحاء والحسین،۱۱۷۳۔الحسین بن علی،ص۲۵،۲۶ملتقطاً، وسیر اعلام النبلاء،۲۷۰۔الحسین الشہید…الخ،ج۴،ص۴۰۲۔۴۰۴

حضور اقدس نبی اکرم ﷺ کو آپ کے ساتھ کمال رافت و محبت تھی۔ حدیث شریف میں ارشاد ہوا:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَنْ اَحَبَّھُمَا فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ ۔(2)المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ،باب رکوب الحسن…الخ،الحدیث:۴۸۳۰، ج۴،ص۱۵۶

”جس نے ان دونوں(3)حضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی۔ ”

شان امام حسین

جنتی جوانوں کا سردار فرمانے سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ راہ خدا عزوجل میں اپنی جوانی میں راہ جنت ہوئے حضرت امامین کریمین ان کے سردار ہیں اور جوان کسی شخص کو بلحاظ اس کے نو عمری کے بھی کہا جاتا ہے اور بلحاظ شفقت بزرگانہ کے بھی، آدمی کی عمر کتنی بھی ہو اس کے بزرگ اس کو جوان بلکہ لڑکا تک کہتے ہیں، شیخ اور بوڑھا نہیں کہتے ہیں۔

اسی طرح بمعنی فتوّت و جوانمردی بھی لفظ جوان کا اطلاق ہوتا ہے خواہ کوئی شخص بوڑھا ہو مگر ہمت مردانہ رکھتا ہو وہ اپنی شجاعت وبسالَت کے لحاظ سے جوان کہلایا جاتا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف اگرچہ وقت وصال پچاس سے زائد تھی۔ مگر شجاعت و جوانمردی کے لحاظ سے نیز شفقت پدری کے اقتضاء سے آپ کو جوان فرمایا گیا اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ انبیائے کرام و خلفائے راشدین کے سوا امامین جلیلین تمام اہل جنت کے سردار ہیں کیونکہ جوانانِ جنت سے تمام اہل جنت مراد ہیں اس لئے کہ جنت میں بوڑھے اور جوان کا فرق نہ ہو گا۔

وہاں سب ہی جوان ہوں گے اور سب کی ایک عمر ہو گی۔ حضور سید عالم ﷺ نے ان دونوں فرزندوں کو اپنا پھول فرمایا۔

ھُمَا رَیْحَانَیْ مِنَ الدُّنْیَا

وہ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔(4)الصواعق المحرقۃ،الباب الحادی عشر،الفصل الثالث، ص۱۹۳، وصحیح مسلم،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا،باب فی دوام نعیم اھل الجنۃ…الخ، الحدیث:۲۸۳۷،ص۱۵۲۱ماخوذاً، ومشکاۃ المصابیح،کتاب المناقب،باب مناقب اہل البیت…الخ،الحدیث:۶۱۴۵، ج۲،ص۴۳۷(5)رواہ الترمذی حضور اقدس ﷺ ان دونوں نونہالوں کو پھول کی طرح سونگھتے او رسینۂ مبارک سے لپٹا تے۔ (6)سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی محمد الحسن بن علی…الخ، الحدیث:۳۷۹۷،ج۵،ص۴۲۸(7)رواہ الترمذی

ایک شدید خواب

حضورپرنورسید عالم ﷺ کی چچی حضرت ام الفضل بنت الحارث حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ ایک روزحضورانور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ علیک وسلم آج میں نے ایک پریشان خواب دیکھا، حضور ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا؟عرض کیا: وہ بہت ہی شدید ہے۔ ان کو اس خواب کے بیان کی جرآت نہ ہوتی تھی۔

حضور ﷺ نے مکرردریافت فرمایا تو عرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ جسد اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹا گیا اور میری گود میں رکھا گیا۔ ارشاد فرمایا :تم نے بہت اچھا خواب دیکھا، ان شاء اللہ تعالیٰ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بیٹا ہو گا اور وہ تمہاری گود میں دیا جائے گا۔ ایسا ہی ہوا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے اور حضرت ام الفضل کی گود میں دیئے گئے۔ ام الفضل فرماتی ہیں: میں نے ایک روز حضوراقدس ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ ﷺ کی گود میں دیا، کیا دیکھتی ہوں کہ چشم مبارک سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہیں۔

میں نے عرض کیا: یانبی اللہ! ﷺ میرے ماں باپ حضور پر قربان! یہ کیا حال ہے؟ فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ خبر فرمائی کہ میری امت اس فرزند کو قتل کرے گی۔ میں نے کہا: کیا اس کو؟ فرمایا: ہاں اور میرے پاس ا س کے مقتل کی سرخ مٹی بھی لائے۔(8)دلائل النبوۃ للبیہقی،جماع ابواب اخبار النبی…الخ،باب ما روی فی اخبارہ…الخ، ج۶،ص۴۶۸، والمستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ،باب اول فضائل ابی عبد اللہ الحسین بن علی…الخ،الحدیث:۴۸۷۱،ج۴،ص۱۷۱ (9)رواہ البیہقی فی الدلائل

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں