حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت

حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت

ابن سعد نے عمران ابن عبداللہ ابن طلحہ سے روایت کی کہ کسی نے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخواب میں دیکھا کہ آپ کے دونوں چشم کے درمیان:

قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌo

لکھی ہوئی ہے۔آپ کے اہل بیت میں اس سے بہت خوشی ہوئی لیکن جب یہ خواب حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیان کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ واقعی اگر یہ خواب دیکھا ہے تو حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر کے چند ہی روز رہ گئے ہیں۔ یہ تعبیر صحیح ثابت ہوئی اور بہت قریب زمانہ میں آپ کو زہر دیا گیا۔(1)تاریخ الخلفائ، باب الحسن بن علی بن ابی طالب،ص۱۵۲۔۱۵۳ملتقطاً وماخوذاً

زہر کے اثر سے اِسْہالِ کبدی لاحق ہوا اور آنتوں کے ٹکڑے کٹ کٹ کر اِسہال میں خارج ہوئے۔ اس سلسلہ میں آپ کو چالیس روز سخت تکلیف رہی۔ قریب وفات جب آپ کی خدمت میں آپ کے برادرِ عزیز سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاضر ہو کر دریافت فرمایا کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے؟ تو فرمایا کہ تم اسے قتل کروگے؟

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ بے شک!حضرت امام عالی مقام نے فرمایا کہ میرا گمان جس کی طرف ہے اگر درحقیقت وہی قاتل ہے تو اللہ تعالیٰ منتقمِ حقیقی ہے اور اس کی گرفت بہت سخت ہے اور اگر وہ نہیں ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب سے کوئی بے گناہ مبتلائے مصیبت ہو۔ مجھے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ زہر دیا گیا ہے لیکن اس مرتبہ کا زہر سب سے زیادہ تیز ہے۔(2)حلیۃ الاولیاء، الحسن بن علی بن ابی طالب،الحدیث:۱۴۳۸،ج۲،ص۴۷ماخوذاً

حضرت امام حسن کی وفات

سبحان اللہ! حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت اور منزلت کیسی بلند و بالا ہے کہ اپنے آپ سخت تکلیف میں مبتلا ہیں، آنتیں کٹ کٹ کر نکل رہی ہیں، نزع کی حالت ہے مگر انصاف کا بادشاہ اس وقت بھی اپنی عدالت و انصاف کا نہ مٹنے والا نقش صفحۂ تاریخ پرثَبَت فرماتا ہے۔ اس کی احتیاط اجازت نہیں دیتی کہ جس کی طرف گمان ہے اس کا نام بھی لیا جائے۔ اس وقت آپ کی عمر شریف پینتالیس سال چھ ماہ چند روز کی تھی کہ آپ نے پانچویں ربیع الاول 49ھ؁ کو اس دار ناپائیدار سے مدینہ طیبہ میں رحلت فرمائی ۔(3)تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب،ص۱۵۲

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ.

وفات کے قریب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ ان کے برادر محترم حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گھبراہٹ اور بے قراری زیادہ ہے اور سیمائے مبارک پر حُزْن و مَلال کے آثارنمودار ہیں۔ یہ دیکھ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تسکینِ خاطِرِ مبارک کے لیے عرض کیا کہ اے برادرِ گرامی! آپ کیوں رنجیدہ ہیں، بے قراری کا کیا سبب ہے۔ مبارک ہو! آپ کو عنقریب حضور پر نور سیِّد عالم ﷺ کی خدمت میں باریابی حاصل ہوگی اور حضرت علی مرتضیٰ اور حضرت خدیجہ الکبریٰ اور فاطمہ زہرا اور حضرت قاسم و طاہر اور حضرت حمزہ وجعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا دیدار نصیب ہو گا۔

حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے برادرِ عزیز! میں کچھ ایسے امر میں داخل ہونے والا ہوں جس کی مثل اب تک داخل نہیں ہوا تھا اور خلق الٰہی عزوجل میں سے ایسی خلق کو دیکھتا ہوں جس کی مثل میں نے کبھی نہیں دیکھی اور اس کے ساتھ ہی آپ نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیش آنے والے واقعات اور کوفیوں کی بد سلوکی وایذا رسانی کا بھی تذکرہ کیا۔(4)تاریخ الخلفاء،باب الحسن بن علی بن ابی طالب،ص۱۵۳

کربلا کا ہولناک منظر اور آپکی تدفین

مذکور بالا ارشاد مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت آپ کی نظر کے سامنے کربلا کا ہولناک منظر اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تنہائی کا نقشہ پیش تھا اور کوفیوں کے مظالم کی تصویریں آپکو غمگین کر رہی تھیں۔ اسکے ساتھ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے درخواست کی تھی کہ مجھے روضۂ طاہرہ میں دفن کی جگہ عنایت ہو جائے انہوں نے اسکو منظور فرمایا۔ میری وفات کے بعد انکی خدمت میں عرض کیا جائے لیکن میں گمان کرتا ہوں کہ قوم مانع ہو گی، اگر وہ ایسا کریں تو تم ان سے تکرار نہ کرنا۔

حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حسب وصیت حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے درخواست کی، آپ نے اس کو قبول فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ بڑی عزت و کرامت کے ساتھ منظور ہے، لیکن مروان مانع ہوا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ہمراہی ہتھیار بند ہو گئے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں بھائی کی وصیت یاد دلا کر واپس کیا اور یہ فرزند رسول جگر گوشہ بتول بقیع شریف میں اپنی والدہ محترمہ حضرت خاتون جنت کے پہلو میں مدفون ہوئے۔(5)تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب، ص۱۵۳۔۱۵۴

زہر دینے کی نسبت

مؤرخین نے زہر خورانی کی نسبت جعدہ بنت اشعث ابن قیس کی طرف کی ہے اور اس کو حضرت امام کی زوجہ بتایا ہے اوریہ بھی کہا ہے کہ یہ زہر خورانی باغوائے یزید ہوئی ہے اور یزید نے اس سے نکاح کا وعدہ کیا تھا۔ اس طمع میں آکر اس نے حضرت امام کو زہردیا۔(6)تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب،ص۱۵۲ لیکن اس روایت کی کوئی سندِ صحیح دستیاب نہیں ہوئی اور بغیر کسی سندِ صحیح کے کسی مسلمان پر قتل کا الزام اور ایسے عظیم الشان قتل کا الزام کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔

قطع نظر اس بات کے کہ روایت کے لئے کوئی سند نہیں ہے اور مؤرخین نے بغیر کسی معتبرذریعہ یا معتمد حوالہ کے لکھ دیا ہے۔ یہ خبر واقعات کے لحاظ سے بھی ناقابل اطمینان معلوم ہوتی ہے۔ واقعات کی تحقیق خود واقعات کے زمانہ میں جیسی ہو سکتی ہے مشکل ہے کہ بعد کو ویسی تحقیق ہو خاص کر جب کہ واقعہ اتنا اہم ہو مگر حیرت ہے کہ اَہل بیت اَطہار کے اس امام جلیل کا قتل اس قاتل کی خبر غیر کو تو کیا ہوتی خود حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ نہیں ہے یہی تاریخیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنے برادر معظم سے زہردہندہ کا نام دریافت فرماتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زہر دینے والے کا علم نہ تھا۔

اب رہی یہ بات کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کا نام لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا تو اب جعدہ کوقاتل ہونے کیلئے معین کرنے والا کون ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یا امامین کے صاحبزادوں میں سے کسی صاحب کو اپنی آخر حیات تک جعدہ کی زہر خورانی کا کوئی ثبوت نہ پہنچا نہ ان میں سے کسی نے اس پر شرعی مواخذہ کیا۔

حضرت امام حسن کی کثیر ازواج

ایک اور پہلو اس واقعہ کاخاص طور پر قابل لحاظ ہے وہ یہ کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کو غیر کے ساتھ سازباز کرنے کی شنیع تہمت کے ساتھ متہم کیا جاتا ہے یہ ایک بدترین تبرا ہے۔ عجب نہیں کہ ا س حکایت کی بنیاد خارجیوں کی افتراءات ہوں جب کہ صحیح اور معتبر ذرائع سے یہ معلوم ہے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کثیر التزوج تھے اور آپ نے سو(100) کے قریب نکاح کیے اور طلاقیں دیں۔

اکثرایک دو شب ہی کے بعد طلاق دے دیتے تھے اور حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم بار بار اعلان فرماتے تھے کہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت ہے، یہ طلاق دے دیا کرتے ہیں، کوئی اپنی لڑکی ان کے ساتھ نہ بیاہے۔

مگر مسلمان بیبیاں اور ان کے والدین یہ تمنا کرتے تھے کہ کنیز ہونے کا شرف حاصل ہو جائے اسی کا اثر تھا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن عورتوں کو طلاق دے دیتے تھے۔ وہ اپنی باقی زندگی حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت میں شیدا یانہ گزاردیتی تھیں اور ان کی حیات کا لمحہ لمحہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد اور محبت میں گزرتا تھا۔(7)تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب،ص۱۵۱ملخصاً

ایسی حالت میں یہ بات بہت بعید ہے کہ امام کی بیوی حضرت امام کے فیضِ صحبت کی قدر نہ کرے اور یزید پلید کی طرف ایک طمع فاسد سے اما م جلیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل جیسے سخت جرم کا ارتکاب کرے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْحَال

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں