ہم مسلمانوں کی بے حسی

اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ہمیں آپس میں محبت، رحم، اور ہمدردی کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام دوسروں کی مدد کرنے اور ان کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آنے اور محبت والا رویہ اختیار کرنے کا درس دیتا ہے۔ جبکہ آج کل مسلمانوں نے اپنے اسلامی اقدار اور اسلاف کے طرز عمل کو ترک کرتے ہوئے بے حسی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔

مسلمانوں پر ظلم

مسلم اقوام کی بڑھتی ہوئی بے حسی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں مسلم اقوام ظلم کی چکی میں پس رہی ہیں اور یہ سلسلہ بجائے رکنے کے بڑہتا ہی جا رہا ہے۔ ہماری یہ بے حسی ملک شام، فلسطین، لیبیا اور دنیا بھر کے دیگر مسلمان ممالک میں ہونے والے مظالم کو دیکھ کر چپ رہنے سے خوب عیاں ہوتی ہے۔

اسلام مسلمانوں کو بے حسی سے منع کرتا اور اتحاد کا درس دیتا ہے۔ ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جیسا کہ اللّہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪

ترجمہ: اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو۔ (1)

اس آیت میں اُن تمام کاموں سے منع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے درمیان تفریق کا سبب ہوں اور بے حسی انہی اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

بے حسی سے کیا مراد ہے؟

بے حسی سے مراد کسی چیز یا کسی شخص کے بارے میں کوئی جذبہ محسوس نہ کرنا یا اس سے لا تعلق ہو جانا ہے۔ یہ کسی شخص میں بھی ہو سکتی ہے اور کسی گروہ یا قوم میں بھی ہو سکتی ہے۔ آج کل ہم مسلمانوں میں بھی بے حسی پیدا ہو گئی ہے اور وہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں سے بے پرواہ ہو گئے ہیں۔ ان کے لیے دل میں ہمدردی آٹے میں نمک کے برابر بھی محسوس نہیں کرتے۔

بھائی چارہ

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ رکھیں اور ایک دوسرے کے خلاف بے حسی کا مظاہرہ نہ کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اسے مایوس نہیں کرتا اور اسے حقیر نہیں سمجھتا۔ (2)

اس حدیث سے مسلمانوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کریں، ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کریں اور ایک دوسرے کی مدد کریں۔ ہمیں چاہیے کہ اب ہم مغربی تہذیب کا پیچھا کرنا بند کریں اور آپس میں جھگڑے فسادات و اختلافات وغیرہ چھوڑ کر بھائی چارہ نبھائیں۔

ہماری ترقی اور مضبوطی کا راز

اتحاد اور اتفاق مسلمانوں کے لئے بہت ہی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ جو کہ مسلم اقوام کی ترقی اور مضبوطی میں مددگار ہیں۔ ہمیں اس رشتے کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ تاکہ ہم ایک ساتھ متحد رہیں اور کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔ اس طرح مسلم اقوام مزید طاقتور ہو جائیں گی۔

الله پاک سب مسلمانوں کو آپس میں اتحاد اور اتفاق قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس راہ سے بھٹکنے والوں کو ہدایت عطا کرے۔ آمین!

5/5 - (1 vote)

حوالہ جات

حوالہ جات
1 آل عمران، 103
2 صحیح مسلم 2564

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں