بیوی کا اثر کہاں تک جاتا ہے؟

بیوی کا اثر

مرد کے تقوے پرہیز گاری اور حلال و حرام کمائی ہونے میں عورت کا بہت عمل دخل ہے۔ اگر وہ نیک ہو تو اس بیوی کا اثر مرد اور اولاد دونوں کی زندگی پر ظاہر ہوتا ہے۔ جسا کہ ایک بزرگ پانچ وقت کی نماز اشراق و چاشت و تہجد باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن زوجہ محترمہ کو کہنے لگے کہ تم صرف پانچ نمازیں پڑھتی ہو کبھی تہجد بھی پڑھ لیا کرو۔ بیوی صاحبہ نے بات سنی اور خاموشی اختیار کر لی۔

دوسرے دن بابا جی بمشکل فجر کی نماز وہ بھی آخری وقت میں پڑھ سکے۔ آنکھ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ بیگم صاحبہ کو کہتے ہیں آج پتا نہیں کیا ہوا فجر کی نماز مشکل سے پڑھ سکا ہوں۔ بیگم صاحبہ مسکرا کر کہنے لگی۔ میرے سر تاج پہلے میں با وضوء کھانا بناتی تھی جس کی برکت سے آپکی تہجد میں آسانی سے آنکھ کھل جاتی تھی۔

کل آپ نے مجھے طعنہ لگایا تو میں نے رات کا کھانا بے وضوء بنایا۔ جس کی وجہ سے آپکی تہجد تو گئی آپ کے لیئے فجر کی نماز پڑھنا بھی مشکل ہو گیا۔ اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ جو خواتین با وضوء کھانا بناتی ہیں اور پاکی کا خاص خیال رکھتی ہیں اس گھر کے مردوں پہ تقویٰ و پرہیز گاری کے اثرات نظر آتے ہیں۔

نیک بیوی کا اثر

بیوی حسین ہو تو صرف دنیاوی حور ہوگی اور اگر متقیہ اور علم والی ہو تو آخرت میں سینکڑوں حوروں کے ملنے کا سب بن جاتی ہے۔ حبیب عجمی کی بیوی ان کو رات کے آخری پہر اٹھاتی اور بلند آواز سے کہتی: اے بندہِ خدا اٹھ اور دیکھ رات گزر گئی اور تیرا راستہ طویل اور تیرے پاس زادِ راہ قلیل ہے۔ صالحین کے قافلے ہمارے سامنے سے گزر گئے ہیں اور ہم یہاں تنہاء رہ گئے ہیں۔

جن نفوسِ قدسیہ کی ازواج ایسی ہوں تو انکی زندگی پاک و صاف اور یہیں جنت کا عکس ہوتی ہے۔ خواتین مردوں کی بازو نیکی و عبادت میں بنیں۔ مردوں سے آخرت کے انعامات کا تقاضا کریں نہ کہ فانی مال کی طلب میں حرام کمانے پر مجبور کریں۔ خواتین کی نیکی و بدی کا اثر نسلوں میں جاتا ہے لہذا عارضی آسائش کے لیئے نسلوں کا بیڑہ غرق مت کریں۔

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں