بیعت کی شرعی حیثیت ( کیا بیعت کرنا ضروری ہے)

بیعت کی شرعی حیثیت

آج کل جو بیعت رائج ہے اسے بیعت تبرک کہتے ہیں۔ جو نہ فرض ہے نہ واجب اور نہ ایسا کوئی حکم شرعی کہ جس کو نہ کرنے پر گناہ یا آخرت میں پکڑ ہو۔ ہاں اگر کوئی متصل السلسلہ جامع شرائط پیر مل جاۓ تو اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر اسکا مرید ہونا یقینا ایک اچھا عمل اور باعث خیر و برکت ہے اور بے شمار دینی و دنیوی فوائد کا حامل ہے۔

لیکن اسکے باوجود اگر کوئی شخص عقائد درست رکھتا ہو، بزرگان دین اور علماء سے محبت رکھتا ہو اور کسی خاص پیر کا مرید نہ ہو تو اسکے لئے یہ عقائد اور ایمان کی درستگی ، اولیاء کرام و علماء سے محبت ہی کافی ہے۔ کسی خاص پیر کا مرید نہ ہو کر ہرگز وہ کوئی شرعی مجرم یا گناہ گار نہیں ہے۔ مگر آج کل گاؤں، دیہاتوں میں کچھ جاہل بے شرع پیر یہ پروپگنڈہ کرتے ہیں کہ جو مرید نہیں ہو گا اسے جنت نہیں ملے گی۔

جس کا کوئی شیخ نہیں اس کا شیخ شیطان ہے

یہاں تک کہ بعض ناخواندہ و پیشہ ور مقرر جن کو تقریر کرنے کی فرصت ہے مگر کتابیں دیکھنے کا وقت ان کے پاس نہیں، جلسوں میں ان جاہل پیروں کو خوش کرنے کے لئے یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے۔ اور بعض ناخواندے اسکو حضور سید عالمﷺ کا فرمان بتاتے ہیں اور اس سے آجکل کی پیری مریدی مراد لیتے ہیں۔

  اولاً تو یہ کوئی حدیث نہیں ہاں بعض بزرگوں سے ضرور منقول ہے کہ جس کا کوئی شیخ نہیں اس کا شیخ شیطان ہے۔ تو اس شیخ سے مراد مرشد عام ہے نہ کہ مرید خاص۔ یعنی اگر وہ کسی کو اپنا شیخ بنائے گا تو وہ اس کی رہنمائی کرے گا اور اس کو غلط صحیح کی پہچان کروائے گا۔ وگرنہ شیطان اس سے جیسے چاہے گا کھیلے گا۔

بیعت کی شرعی حیثیت

خلاصہ یہ کہ اگر جامع شرائط منبع شرع پیر ملے مرید ہو جاۓ کہ باعث خیر و برکت اور درجات کی بلندی کا سبب ہے، اور اگر ایسا لائق و اہل پیر نہ ملے تو خواہی نخواہی گاؤں گاؤں پھیری کرنے والے جاہل ، بے شرع ، علماء کی برائی کرنے والے نام نہاد پیروں کے ہاتھ میں ہاتھ ہرگز نہ دے۔ ایسے لوگوں سے مرید ہونا ایمان کی موت ہے۔ (1)غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح، صفحہ 87-88 ملخصاً (ازقلم مولانا تطہیر احمد رضوی)

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں