کون کس کا راز ہوتا ہے..؟

باپ کا راز

سیدنا عدی بن حاتم مشہور سخی حاتم طائی کے بیٹے ہیں۔ آپ جلیل القدر صحابی بھی ہیں۔ آپ روٹی ٹکڑے کر کے چیونٹیوں کے سوراخوں کے سامنے پھینکتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ جاندار ہمارے پڑوسی ہیں اور ہم پر پڑوسی کا حق ادا کرنا واجب ہے۔ باپ کی عادات و خصائل اولاد میں ضرور منتقل ہوتی ہیں۔

ایک بار سائل نے عدی بن حاتم سے سوال کیا کہ دس درھم دے دیں۔ آپ نے قسم اٹھائی کہ تجھے ایک درھم بھی نہیں دوں گا کیونکہ تم نے اتنے بڑے سخی کے بیٹے سے دس مانگ کر اسکی توہین کی ہے۔ جب سائل جانے لگا تو آپ نے واپس بلایا اور فرمایا : اگر میں نے رسول کریم ﷺ سے نہ سنا ہوتا تو تمہیں ایک درھم بھی نہ دیتا۔

فرمایا: جب تم کسی بات پر قسم کھا لو پھر تمہیں محسوس ہو کہ قسم توڑنے سے اچھا ہے تو قسم توڑ کر وہ اچھا کام کرو اور کفارہ دو۔ پھر آپ نے سائل کو دس ہزار درھم دیئے اور قسم کا کفارہ الگ ادا کیا۔

باپ کا راز

سخاوت مال اور سخاوت نفس وراثت میں بچے کو ملتی ہیں۔ فضیل بن عیاض نے اپنے بیٹے کو دیکھا کہ وہ ترازو کو خوب صاف کر رہا ہے۔ پوچھا اتنی محنت سے کیوں صاف کر رہے ہو۔ کہنے لگا کہ کہیں ترازو کے تول میں گاہک کو گرد و غبار نہ دے دیا جائے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے بے ساختہ کہا:

الولد سر لابیہ

کہ بچہ اپنے باپ کا راز ہوتا ہے

یعنی جو گن و صفات و اخلاق باپ میں ہوتے ہیں وہ اولاد میں ضرور آتے ہیں۔ سعید بن مسیب ساری رات عبادت کرتے ساتھ میں دو چار سال کا بچہ لیٹا ہوتا اسکو مخاطب کر کے فرماتے یہ مشقت میں تمہارے لیئے کر رہا ہوں۔ یعنی میری عبادت و نیکی کا اثر تم پر پڑے اس لیے اتنی محنت کرتا ہوں۔

کیونکہ اچھی اولاد دنیا میں نیک نامی اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر اولاد سے دنیا و آخرت کی بھلائی لینی ہے تو پہلے اس کے سامنے نیکی و بھلائی کیا کریں۔ کیونکہ بچہ باپ کا راز ہوتا ہے بچہ وہی کرتا ہے جو باپ کرتا ہے۔ اولاد کو نیک بنانے کے لیئے خود نیک ہونا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں