ایمان کی تعریف اور ایسے کام جن پر کفر کا حکم ہے..!

ایمان کی تعریف

ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر وہ تمام علوم سیکھنا فرض ہے جن کا تعلق ایمان سے ہے۔ میں ایمان کی تعریف کے ساتھ ساتھ کچھ اور ضروری باتیں عرض کرتا ہوں۔ جو آپ کے ایمان کی حفاظت کا سبب بن سکتی ہیں۔

ایمان کی تعریف

وہ تمام امور جو حضور نبی کریم ﷺ اللہ پاک کی طرف سے لائے اور جن کی نسبت یقینی معلوم ہے کہ یہ دین مصطفی ﷺ سے ہیں ان سب کی تصدیق کرنا اور دل سے ماننا ”ایمان“ ہے۔

جیسے اللہ پاک کی وحدانیت، تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوت، حضور نبی کریم ﷺ وسلم کاخاتم النبین ہونا۔ (1)یعنی یہ اعتقاد کہ حضورﷺ سب میں آخری نبی ہیں، حضورﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی اسی طرح حشر نشر(2)مرنے کے بعد زندہ کر کے اٹھایا جانا جنت دوزخ وغیرہ کا اعتقاد اور زبان سے اقرار بھی ضروری ہے۔

مگر حالت اکراہ (3)یعنی اگر معاذاللہ کلمہ کفرجاری کرنے پر کوئی شخص مجبو رکیا گیا یعنی اسے مارڈالنے یا اس کا عضو کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی کہ یہ دھمکانے والے کو اس بات کے کرنے پر قادر سمجھے توایسی حالت میں اس کو رخصت دی گئی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ دل میں وہی اطمینان ایمانی ہو جو پیشتر تھا میں جبکہ خوف جان ہو اس وقت اگر تصدیق میں کچھ خلل نہ آئے تو وہ شخص مومن ہے۔ اگرچہ اس کو بحالت مجبوری زبان سے کلمہ کفر کہنا پڑا ہو۔ مگر بہتر یہی ہے کہ ایسی حالت میں بھی کلمہ کفر زبان پر نہ لائے۔

کیا گناہ کبیرہ کرنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے؟

گناہ کبیرہ کرنے سے آدمی کافراور ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ شرک و کفر کبھی نہ بخشے جائیں گے اور مشرک و کافر کی ہر گز مغفرت نہ ہو گی۔ ان کے سوا اللہ پاک جس گناہ کو چاہے گا اپنے مقربوں کی شفاعت سے یا محض اپنے کرم سے بخشے گا۔

شرک و کفر کی تعریف

شرک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو خدا یا مستحق عبادت سمجھے اور کفر یہ ہے کہ ضروریات دین یعنی وہ امور جن کا دین مصطفی ﷺ سے ہونا یقین کے ساتھ معلوم ہو ان میں سے کسی کا انکار کرے۔

کیا کوئی کام ایسے بھی ہیں جن پر کفر کا حکم ہو؟

بعض افعال بھی تکذیب و انکار کی علامات ہیں۔ ان پر بھی کفر کا حکم دیا جاتا ہے۔

  • جیسے زنّار(4)ایک مخصوص دھاگہ جسے ہندو گلے اور بغل کے درمیان اورعیسائی، مجوسی، یہودی کمر میں باندھتے ہیں پہننا۔
  • قشقہ (5)ہندو ماتھے پر جو ٹیکا لگاتے ہیںلگانا وغیرہ۔

کافر ہمیشہ دوزخ میں رہيں گے اور مسلمان کتنا بھی گنہگار ہو کبھی نہ کبھی ضرور نجات پائے گا۔ ان شاء اللہ

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں