امام اعظم ابو حنیفہ اور چاروں امام برحق ہیں

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ

سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا نام نامی نعمان ہے۔ والد گرامی کا نام ثابت اورکنیت ابو حنیفہ ہے۔ آپ 70ھ میں عراق کے مشہور شہر’’ کوفے‘‘ میں پیدا ہوئے۔ اور 80 سال کی عمر میں 2 شعبان المعظم 150ھ میں وفات پائی۔ (1)نزھۃ القارِی ج ۱ ص ۱۶۹ ، ۲۱۹

اور آج بھی بغداد میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔ ائمۂ اربعہ یعنی چاروں امام (2)امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم برحق ہیں۔ اور ان چاروں کے خوش عقیدہ مقلدین آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان میں آپس میں تعصب(3)یعنی ہٹ دھرمی کی کوئی وجہ نہیں۔ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ علیہ رحمۃ اللہ الاکرم چاروں اماموں میں بلند مرتبہ ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان چاروں میں صِرف آپ تابِعی (4) تابعی اس کو کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں کسی صحابی سے ملاقات کی ہو اور ایمان پر اس کا خاتمہ ہوا ہو۔ ہیں۔(5)ا لخیرات ا لحِسان ص۳۳

بھائی کی شماتت

سیدنا امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم نے مختلف روایات کے تحت چند صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ہے۔ اور بعض صحابہ علیہم الرضوان سے براہِ راست سرورِ کائنات ﷺ کے ارشادات بھی سنے ہیں۔ چنانچہ حضرت سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے سن کر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان فرمائی ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے:

اپنے بھائی کی شماتت نہ کر(6)یعنی اس کی مصیبت پر اظہار ِمسرت نہ کر کہ اللہ پاک اس پر رحم کرے گا اور تجھے اس میں مبتلا کر دے گا۔ (7)سننِ ترمذی ج۴ ص۲۲۷حدیث۲۵۱۴

یہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا ایک مختصر سا تعارف تھا۔ اللہ پاک ہمیں انکی قرآن و حدیث سے اخز کردہ معلومات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں