ایک بچی اور آسمانی دسترخوان

اللہ پر توکل

۔حضرت ذوالنون المصری ایک دفعہ دریا میں شکار کر رہے تھے اور ساتھ آپ کی چھوٹی بیٹی بھی تھی۔ جب دریا میں جال پھینکا تو ایک مچھلی جال میں آئی۔ بچی نے اس مچھلی کو پکڑنے کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ وہ مچھلی اپنے دونوں ہونٹ ہلا رہی ہے۔ تو بچی نے اسے دریا میں پھینک دیا۔ حضرت ذوالنون مصری نے اپنی بیٹی سے فرمایا: کہ بیٹی تو نے ہماری محنت کو ضائع کر دیا۔

بچی نے عرض کیا کہ جو چیز اللہ پاک کا ذکر کرتی ہو، میں اسے کھانے کے لیے راضی نہیں ہوں۔ حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا۔ اے بیٹی اب ہم کیا کریں؟ بچی نے کہا کہ: ہم اللہ پاک پر توکل کریں گے اور وہ ہمیں ایسی مخلوق سے رزق دے گا جو اللہ پاک کا ذکر نہیں کرتی۔

اللہ پر توکل

چنانچہ آپ نے شکار چھوڑ دیا اور دونوں باپ بیٹی شام تک اللہ پر توکل کر کے ٹھہرے رہے۔ شام تک ان کے پاس کوئی چیز نہ آئی جب عشاء کا وقت ہوا تو ان دونوں پر اللہ تعالیٰ نے آسمان سے دستر خوان اتارا۔ اس میں طرح طرح کے کھانے تھے اور یہ بارہ سال تک ہر رات کو نازل ہوتا رہا۔

حضرت ذوالنون مصری نے گمان کیا کہ یہ دسترخوان میری عبادت ، نماز ، روزہ اور فرمابرداری کی وجہ سے نازل ہوتا ہے ۔ جب آپ کی بیٹی فوت ہوگئی تو وہ دستر خوان نازل ہونا بند ہو گیا۔ تب آپ کو معلوم ہوا کہ دستر خوان تو بیٹی کی وجہ سے اتر تا تھا نہ کہ میری وجہ سے۔ پھر آپ نے اپنے گمان سے رجوع کی۔

وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖؕ-

اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے بے شک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے۔

اللہ پاک ہمیں بھی توکل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں